کوئٹہ میں غیر قانونی شیشہ کیفوں کی بھر مار، شہریوں اور والدین میں شدید تشویش
رہائشی علاقوں میں رات گئے تک سرگرمیاں، نوجوان نسل کی صحت اور تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا حکومت اور پولیس انتظامیہ سے غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی طور پر قائم شیشہ کیفوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں، سماجی حلقوں اور والدین کے لیے باعث تشویش بنتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں شیشہ کیفے بڑی تعداد میں کھلے عام چل رہے ہیں، تاہم متعلقہ ادارے ان کے خلاف مثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں مقامی افراد کے مطابق گلستان روڈ، شہباز ٹان، جناح ٹان، ایئرپورٹ روڈ، نوا کلی، سبزل روڈ، ہزارہ ٹان، سریاب روڈ، سمنگلی روڈ اور ملی آباد سمیت متعدد علاقوں میں درجنوں شیشہ کیفے قائم ہیں جہاں روزانہ نوجوانوں کا رش لگا رہتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کیفوں میں کم عمر نوجوان بھی آتے ہیں، جس پر والدین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں شہریوں کے مطابق بیشتر شیشہ کیفے رات گئے، بعض اوقات تین سے چار بجے تک کھلے رہتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی آبادی کو شور شرابے اور ٹریفک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں رات گئے تک کاروباری سرگرمیوں کے باعث امن و سکون متاثر ہو رہا ہے ہزارہ ٹان کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مبینہ طور پر تیس سے چالیس شیشہ کیفے قائم ہیں، جن کی وجہ سے نوجوان نسل میں شیشہ نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی ان کیفوں کا رخ کرتے ہیں، جس کے باعث والدین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شیشہ نوشی نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ نوجوانوں کو دیگر منفی سرگرمیوں کی طرف بھی مائل کر سکتی ہے کئی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض شیشہ کیفے مبینہ طور پر بااثر افراد کی سرپرستی میں چل رہے ہیں، اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے بعض شہریوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ متعلقہ پولیس تھانوں کی جانب سے بعض شیشہ کیفوں سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ ان دعوں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور متعلقہ اداروں کا مقف سامنے نہیں آیا۔ سماجی کارکنوں اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات میں کوئی صداقت موجود ہے تو اس کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلی سطح کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے شہریوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کئی علاقوں میں منتخب عوامی نمائندے، سماجی تنظیمیں اور مقامی قیادت اس مسئلے پر مثر آواز بلند کرتی دکھائی نہیں دیتی، جس کے باعث نوجوان نسل اس رجحان کا شکار ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیشہ کیفوں کے پھیلا کے باعث والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں جبکہ ہزارہ ٹان میں اس وقت دو تھانوں کی حدود لگ رہی ہے جن میں بروری روڈ تھانہ اور ہزارہ ٹان تھانہ لگ رہا ہے جن میں مقامی تھانے لاکھوں روپے ماہانہ بتہ وصول کر رہے ہیں اور ان شیشہ کیفیکے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں کر رہے جبکہ ہزارہ ٹان کی سیاسی و سماجی رہنما بھی بالکل منہ پر خاموشی کا تالا لگا کر بیٹھ چکے ہیں ماہرین صحت کے مطابق شیشہ نوشی سگریٹ سے کم نقصان دہ نہیں بلکہ کئی صورتوں میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسلسل شیشہ استعمال کرنے سے پھیپھڑوں، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت متعدد طبی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ نوجوانوں میں اس کی عادت مستقبل میں دیگر نشہ آور اشیا کی طرف رجحان پیدا کر سکتی ہے۔ شہریوں، والدین، سماجی تنظیموں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں قائم غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈان کیا جائے، ان کے اوقات کار کی سخت نگرانی کی جائے، کم عمر افراد کے داخلے پر پابندی یقینی بنائی جائے، اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی مبینہ غفلت یا غیر قانونی معاونت ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس رجحان سے بچایا جا سکے اور شہر میں قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔
