قائد جمعیت کی کردار کشی کسی صورت برداشت نہیں، ادارے اپنی حدود میں رہیں: جمعیت علمائے اسلام

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے کہا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے اصولوں اور آئین کے مطابق با ت کرکے یہ واضح کیا کہ ہر ادارہ اپنے حدود میں رہ کر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں نہ ہونے کی صورت میں ملک جو اس وقت نازک دور سے گزررہا ہے مزید مشکلات و مسائل جنم لے گی لیکن بعض لوگوں نے اس کے بیان غلط طریقے سے ان کی کردار کشی کررہے ہیں جس کی ہم اجازت نہیں دینگے اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اور سیاسی جماعتیں اپنے حدود میں رہ کر ورنہ جمعیت علماء اسلام قائد کے دفاع کے لیے ہر سازش کو ناکام بنائیں گے‘یہ بات جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری‘صوبائی امیر مولانا عبدالواسع‘ مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈووکیٹ‘سابق صوبائی وزیر حاجی نواز کاکڑ اور ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہی‘انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام جماعتیں ملکر ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے کردار ادا کریں نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے لیے سازش کریں جمعیت علماء اسلام کی ماضی بے داغ ہے ہر دور میں چاہئے آمریت ہو یا آمرانہ قوتوں کا سوچ ہو ہم نے مسترد کیا ہے آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں جہاں تک اداروں کا تعلق ہے ہم نے ہمیشہ احترام کیا ہے اور کرتے رہیں گے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم اس کا احترام کریں اوروہ ہمارے جمہوری زبان بند کرنے کے لیے سازشیں شروع کریں پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے موجودہ حالات کے تناظر میں جو بیان دیا وہ ملک اور آئین کی بالادستی کے لیے موثر بیان ہے لیکن بعض لوگ اس کو کسی اور طرف لے جارہے ہیں اور اس صورت میں قائد جمعیت کی کردار کشی کررہے ہیں جو کسی بھی صورت قبول ہے اور نہ ہی خاموش بیٹھیں گے۔
