’لوگوں نے روٹی کھانا کم کردی ہے کیونکہ افورڈ نہیں کرسکتے‘
پنجاب حکومت کی ترجیحات یہ ہیں کہ اربوں کا جہاز لے لو، ترجیحات یہ ہیں کہ بسیں چلاؤ جن پہ تصویریں لگی ہوں، حتیٰ کہ کچرے کے ڈبوں پر تصویریں ہوں؛ اینکر پرسن محمد مالک کی حکومتی ترجیحات پر شدید تنقید

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر اینکر پرسن محمد مالک نے ملک کی معاشی صورتحال، حکومتی ترجیحات اور عوام کو درپیش مسائل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ بنیادی عوامی مسائل کے بجائے تشہیری منصوبوں اور نمائشی اقدامات پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی، بجلی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی۔
اس حوالے سے اپنے تجزیے میں محمد مالک نے کہا کہ پنجاب میں ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اربوں روپے مالیت کے جہاز خریدے جا رہے ہیں، مختلف منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور سرکاری بسوں سے لے کر کچرے کے ڈبوں تک پر تصاویر آویزاں کی جا رہی ہیں، حکومتی وسائل عوامی ریلیف کے بجائے تشہیری مہمات پر خرچ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے اس تناظر میں بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی تصویر کسی سرکاری جگہ پر آویزاں نہیں کی جائے گی، تاہم ان کے بقول پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں توجہ صرف تصویری تاثر بہتر بنانے پر دی جا رہی ہے۔
اینکر پرس محمد مالک حکومت پر برس پڑے !!!
پنجاب میں ترجیحات ہیں کہ اربوں روپے کے جہاز لے لو، بسیں چلائیں جن پر فوٹوز لگی ہوں حتیٰ کہ کچرے کے ڈبوں پر بھی تصویریں لگا رہے ہیں، بنگلہ دیش میں ایک ایڈمنسٹریٹو آرڈر جاری کیا ہے کہ وزیراعظم کی تصویر کسی جگہ پر نہیں لگے گی لیکن وہ بنگلہ…— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) July 29, 2026
محمد مالک نے کہا کہ اصل مسائل کچھ اور ہیں کیونکہ خطے میں سب سے مہنگی بجلی اور مہنگا پیٹرول پاکستانی عوام استعمال کر رہے ہیں، جبکہ بجلی کے بھاری بلوں نے لاکھوں گھرانوں کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، مہنگائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بہت سے لوگوں نے گندم اور آٹے کی کھپت بھی کم کردی ہے کیونکہ اب ان کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بجلی کے نرخ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے، اپوزیشن جماعتیں اور مختلف ماہرین معاشیات بھی عوامی ریلیف کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام، مالیاتی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ملک کو پائیدار معاشی بہتری کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
