سورینج کوئٹہ میں کوئلہ کان کے المناک حادثے پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا اظہارِ افسوس


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان کے المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ، افسوس اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کے لیے انتہائی دلخراش ہے۔
انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ کان کن ملک کی معیشت کے خاموش معمار ہیں، جو انتہائی دشوار اور جان لیوا حالات میں اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی جانوں کا تحفظ ریاست، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برتنا قابلِ قبول نہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جاں بحق کان کنوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد و مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔
انہوں نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ حادثے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے المناک سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر، دیرپا اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، گیس مانیٹرنگ، وینٹیلیشن، ہنگامی ریسکیو سہولیات اور باقاعدہ حفاظتی معائنے کو لازمی بنایا جائے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کان مالکان پر زور دیا کہ وہ کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کو منافع پر ترجیح دیں، حفاظتی آلات کی فراہمی، کارکنوں کی تربیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، اور حفاظتی اقدامات پر سرمایہ کاری درحقیقت انسانی زندگیوں کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر کان کن اپنے خاندان کی امید، سہارا اور مستقبل ہوتا ہے۔ ایسے سانحات کی روک تھام صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کسی محنت کش کا گھر اس طرح سوگوار نہ ہو اور بلوچستان کے کان کن محفوظ ماحول میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔میں کوئلہ کان کے المناک حادثے پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا اظہارِ افسوس
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان کے المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ، افسوس اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کے لیے انتہائی دلخراش ہے۔
انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ کان کن ملک کی معیشت کے خاموش معمار ہیں، جو انتہائی دشوار اور جان لیوا حالات میں اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی جانوں کا تحفظ ریاست، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برتنا قابلِ قبول نہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جاں بحق کان کنوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد و مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔
انہوں نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ حادثے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے المناک سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر، دیرپا اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، گیس مانیٹرنگ، وینٹیلیشن، ہنگامی ریسکیو سہولیات اور باقاعدہ حفاظتی معائنے کو لازمی بنایا جائے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کان مالکان پر زور دیا کہ وہ کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کو منافع پر ترجیح دیں، حفاظتی آلات کی فراہمی، کارکنوں کی تربیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، اور حفاظتی اقدامات پر سرمایہ کاری درحقیقت انسانی زندگیوں کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر کان کن اپنے خاندان کی امید، سہارا اور مستقبل ہوتا ہے۔ ایسے سانحات کی روک تھام صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ کسی محنت کش کا گھر اس طرح سوگوار نہ ہو اور بلوچستان کے کان کن محفوظ ماحول میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔

WhatsApp
Get Alert