سورینج میں کوئلہ کان کے المناک حادثے پر میر علی حسن زہری کا اظہارِ افسوس

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر صوبائی نائب صدر، صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان اور سابق صوبائی وزیر زراعت و کوآپریٹو میر علی حسن زہری نے کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان کے المناک حادثے میں متعدد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ، افسوس اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
میر علی حسن زہری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ اس دلخراش حادثے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ محنت کش کان کن اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے انتہائی دشوار اور خطرناک حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں، مگر حفاظتی انتظامات میں معمولی سی غفلت بھی ناقابلِ تلافی انسانی سانحات کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے۔
میر علی حسن زہری نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ حادثے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، گیس مانیٹرنگ، وینٹیلیشن، ہنگامی ریسکیو سہولیات اور باقاعدہ حفاظتی آڈٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کوئلہ کانوں کے مالکان پر زور دیا کہ وہ کان کنوں کی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور تمام قانونی و حفاظتی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ حفاظتی آلات کی فراہمی، کارکنوں کی تربیت اور محفوظ ماحول کی فراہمی صرف قانونی تقاضا ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ انسانی جانوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قابلِ قبول نہیں۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ ایک کان کن کی شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے مستقبل سے جڑا سانحہ ہوتی ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ کسی محنت کش کا گھر اس طرح اجڑنے نہ پائے اور بلوچستان کے کان کن محفوظ ماحول میں باعزت طریقے سے اپنا روزگار کما سکیں۔
