آمرانہ اقدامات سے سیاسی استحکام اورجمہوریت پامال ہوا ہے، عبدالرحیم زیارتوال
محمود خان اچکزئی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نجات کیلئے بارہا کانفرنس بلانے پر زور دیتے رہے ہیں،ملک کے حکمرانوں نے عقل کے ناخن نہ لیئے تو ملکی صورتحال میں سخت ابتری آئے گی ملک کی مقتدرہ قوتیں ملکی آئین بنانے میں رکاوٹیں اور 23سال کے بعد متفقہ آئین کو باربار معطل کرنے اور صوبائی خود مختاری اور قومی وحدت قائم کرنے سے انحراف کرتے چلے آئے ہیں

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے ایک اخباری بیان میں ملک کی سخت بحرانی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی مقتدرہ قوتیں ملکی آئین بنانے میں رکاوٹیں اور 23سال کے بعد متفقہ آئین کو باربار معطل، پامال یا منسوخ کرنے کے آمرانہ اقدامات کے نتیجہ میں ملکی سیاسی استحکام اور جمہوریت پامال ہوتا چلا آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی آمرانہ قوتیں مسلسل ملک کی سیاست، معیشت اور ملک کے قوموں کی معاشرتی سماجی صورتحال اور روایات واقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبائی خود مختاری اور قومی وحدت قائم کرنے کی انسانی،اسلامی روایات پاؤں تلے روندتے چلے آئے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی تعلیمی ریشوکا گراف پسماندہ سے پسماندہ ترین ملکوں سے نیچے چلاگیا ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے، بیروزگاری اور مہنگائی اپنے عروج پر ہیں اور پنجاب کو چھوڑ کر تمام ملک اور خصوصابلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشتگردی کی جاری لہر جس نے ہرفرد خاندان اور تمام معاشرے کو سخت ترین اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور حکومت ان کے کنٹرول میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور دونوں صوبوں کے عوام مسلط پراکسی ڈیتھ اسکوارڈ، چور و ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ملک کی اس بحرانی صورتحال پر پارٹی کے محبوب چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی پارٹیوں، فوج، عدلیہ، میڈیا، وکلاء اور دیگر تنظیموں پر کانفرنس بلانے کا بار بار کہا تھا جس میں ملک کو درپیش آئینی، سیاسی، جمہوری، پارلیمانی، معاشی اور معاشرتی بحرانوں کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جاسکے ۔بیان میں کہا گیا کہ ملک میں آئین کی بحالی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہور کی حکمرانی اور ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن اور ملک کے تمام اداروں کو آئینی فریم ورک کے اندر کام کرنے کا پابند بنانے سے ملک میں سیاسی استحکام ممکنہے اورعدم سیاسی استحکام سے ملک کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اگرملک کے حکمرانوں نے عقل کے ناخن نہ لیئے تو ملکی صورتحال میں سخت ابتری آئے گی جسکی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
