پی ڈی ایم اے کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنانا افسوسناک، سورینج کان حادثے کی ذمہ داری پی ڈی ایم اے پر عائد کرنا حقائق کے منافی ہے: ترجمان پی ڈی ایم اے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ترجمان پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے کہا ہے کہ سورینج کان حادثے کے تناظر میں پی ڈی ایم اے کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم اے نے اس واقعے میں اپنی قانونی ذمہ داری سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ جذبے کے تحت ہر ممکن کردار ادا کیا۔ کسی بھی ادارے پر تنقید سے قبل اس کے قانونی دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا، مائننگ قوانین پر عملدرآمد کرانا، مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات کرنا اور کانوں کی نگرانی کرنا متعلقہ اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اگر حفاظتی انتظامات مکمل ہوتے تو ایسے افسوسناک سانحات سے بڑی حد تک بچا جا سکتا تھا۔ پی ڈی ایم اے کا کردار حادثے کے بعد امدادی سرگرمیوں، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور متاثرین کی معاونت تک محدود ہے، اور ادارے نے اس ذمہ داری کو بھرپور انداز میں نبھایا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بعض عناصر اور سوشل میڈیا پر موجود کچھ نام نہاد صحافی بغیر حقائق جانے اور مکمل معلومات حاصل کیے بغیر پی ڈی ایم اے کے خلاف بے بنیاد مہم چلا رہے ہیں۔ اختلاف رائے اور تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن جھوٹ، قیاس آرائیوں اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر کسی قومی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کسی صورت ذمہ دارانہ صحافت نہیں کہلا سکتا۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔


انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں صوبے کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ چاہے تباہ کن سیلاب ہوں، شدید بارشیں، برفباری، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، شاہراہوں کی بندش یا دیگر قدرتی آفات، پی ڈی ایم اے نے ہر موقع پر سب سے آگے بڑھ کر امدادی کارروائیاں کیں، متاثرین تک راشن، خیمے، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچایا اور بروقت ریلیف فراہم کیا۔


انہوں نے کہا کہ تربت، واشک، زیارت، چمن، جعفرآباد، نصیرآباد، صحبت پور، قلعہ سیف اللہ، موسیٰ خیل، ژوب اور بلوچستان کے دیگر متاثرہ اضلاع میں پی ڈی ایم اے کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہزاروں خاندانوں کی بحالی، لاکھوں افراد تک امدادی سامان کی فراہمی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل اس ادارے کی کارکردگی کا عملی ثبوت ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا کہ چند عناصر کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوششیں نہ تو عوامی خدمت کے سفر کو روک سکتی ہیں اور نہ ہی پی ڈی ایم اے کے عزم کو کمزور کر سکتی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے افسران اور اہلکار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کرتے ہیں، اس لیے ان کی خدمات کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے حقائق پر مبنی تنقید کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم بے بنیاد الزامات، منفی پروپیگنڈا اور ادارے کی کردار کشی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ عوام اور ذرائع ابلاغ سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات مستند ذرائع سے حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان مستقبل میں بھی ہر قدرتی آفت اور ہنگامی صورتحال میں عوام کی جان و مال کے تحفظ، فوری امداد کی فراہمی اور متاثرین کی بحالی کے لیے پہلے سے بڑھ کر خدمات انجام دیتا رہے گا۔ عوام کی خدمت ہی پی ڈی ایم اے کی پہچان ہے اور یہی ادارے کا بنیادی نصب العین رہے گا۔


اسکے علاؤہ میں دہشت گردی میں شہید ھونے والے ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھتے والے افراد کی نعشیں بھی پی۔ڈی ایم اے نے پہنچائی جبکہ اس دوران پی ڈی ایم اے کی گاڑیوں مشینری اور ملازمین پر حملے ھوئے لیکن اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ھوئے بھی ہر مشکل وقت میں عوام کی حفاظت اور انکی مدد کیلے کوئی کسر اٹھا رکھی ترجمان نے مزید کہا کہ تمام تر بلا جواز تنقید اور بے بنیاد پروپگنڈہ کے باوجود پی ڈی ایم اے انسانیت کی خدمت جاری رکھے گا حالانکہ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کے گرد و نواح میں کوئلہ کانوں میں تواتر کیساتھ سے ایسے واقعات رونما ھو رھے ھیں جسمیں سینکڑوں کوئلہ کانکن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ھیں لیکن ان حادثات میں ان بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود متعلقہ اداروں اور مائن لیبیر تنظیموں کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانا قابل مذمت ھیں لہذا متعلقہ اداروں کو اسکا نوٹس لیتے ھوئے انکے خلاف کاروائی کرنی چائیے

WhatsApp
Get Alert