سوات خودکش حملہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے سوات کے علاقے کبل چوک میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، امن اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا ہے۔
پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ بیان کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب سوات میں امن کے قیام کے لیے ایک عوامی جلسہ جاری تھا، جس سے پشتونخوا اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن خیبرپختونخوا کے زونل سیکرٹری غیرت خان یوسفزئی خطاب کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری اور پولیس اہلکار شہید و زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی غلط اور عسکری پالیسیوں، دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور افغانستان میں مسلح مداخلت نے پورے خطے کو بدامنی اور تباہی سے دوچار کیا، جبکہ اس کی سب سے بڑی قیمت افغان اور پشتون عوام نے ادا کی۔
پارٹی نے کہا کہ گزشتہ بیس برسوں میں سوات، وزیرستان، باجوڑ اور سابقہ فاٹا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے اور عوام شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہوئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ اختیار کی گئی ریاستی پالیسیاں خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے، تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور پشتونخوا میں امن، سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بیان کے اختتام پر پارٹی نے ایک بار پھر سوات کے خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
