اگر دہشت گردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے تو وہ ایس ایچ او کہاں ہے؟ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، 7 اگست کو بلوچستان کے 21 مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے تو وہ ایس ایچ او کہاں ہے؟ دہشت گرد آج بھی سڑکوں پر آزادانہ گھوم رہے ہیں‘ ان کے بقول، حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے بلوچستان میں سیاسی کارکن، صحافی اور عام شہری بھی محفوظ نہیں رہے صوبے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے متعدد صحافیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن آج بھی انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکااپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پہلے عمران خان کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں، اس کے بعد دیگر سیاسی اقدامات کیے جائیں‘ 7 اگست کو بلوچستان کے 21 مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے ‘یہ بات انہوں نے پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے بلوچستان کو ایک صوبے کے بجائے کالونی سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے عوام کو برابر کا پاکستانی نہیں سمجھتے اور صوبے کے وسائل کو مالِ غنیمت تصور کرتے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرپٹ نظام کی وجہ سے بلوچستان کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو پامال کرنے والے آج دوسروں کو آئین کی دفعات سمجھاتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے تو وہ ایس ایچ او کہاں ہے؟ دہشت گرد آج بھی سڑکوں پر آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ ان کے بقول، حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے، مگر ان وسائل کا درست استعمال نہیں ہو رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے سردار اور نواب اس صورتحال پر خاموش کیوں ہیں، اور دعویٰ کیا کہ ماضی میں انگریزوں نے جبکہ آج اسٹیبلشمنٹ نے سردار پیدا کیے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے انتظامی تقسیم کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، مگر بیوروکریسی منتخب نمائندوں کی بات نہیں سنتی۔انہوں نے محمود خان اچکزئی کے مجوزہ پشتون جرگے کے حوالے سے کہا کہ وہ پہلے عمران خان کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں، اس کے بعد دیگر سیاسی اقدامات کیے جائیں۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بلوچستان میں امن، آئین کی بالادستی، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔میر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں “بدل دو نظام” تحریک چلا رہی ہے تاکہ عوام کو انصاف، امن اور بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو بلوچستان کے 21 مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
