ویپنگ سے مستقبل میں کینسر کی شرح کم ہو سکتی ہے: تحقیق


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکا میں روایتی سگریٹ نوشی سے ای سگریٹ اور دیگر نکوٹین مصنوعات کی جانب بڑھتے رجحان سے مستقبل میں کینسر کی شرح میں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جے این سی آئی کینسر اسپیکٹرم میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں 2015ء سے 2023ء کے دوران امریکی وفاقی صحت کے سروے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس عرصے کے دوران تقریباً تمام عمر کے گروپس میں روایتی سگریٹ نوشی میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ 18 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں یہ کمی خاص طور پر واضح تھی۔
اس کے برعکس صرف متبادل نکوٹین مصنوعات، بالخصوص ای سگریٹ، استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
تحقیق کے سربراہ اور میڈیکل یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے پروفیسر کینتھ مائیکل کمنگز کے مطابق یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ بہت سے سگریٹ نوشی کرنے والے افراد بیک وقت دونوں مصنوعات استعمال کرنے کے بجائے مکمل طور پر ویپنگ کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سگریٹ اور ای سگریٹ دونوں استعمال کرنے والے افراد کی شرح مطالعے کے دوران تقریباً 2 سے 3 فیصد رہی۔
سائنس دانوں نے روایتی سگریٹ نوشی اور غیر جلنے والی نکوٹین مصنوعات کے استعمال کا موازنہ کرنے کے لیے ایک پاپولیشن ہارم ریڈکشن انڈیکس بھی تیار کیا۔
محققین کے مطابق انڈیکس میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ افراد روایتی سگریٹ کے بجائے ایسے متبادل استعمال کر رہے ہیں جن سے ممکنہ طور پر کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کا سامنا کم ہوتا ہے۔
تحقیق سامنے آیا کہ 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں سگریٹ نوشی چھوڑ کر متبادل مصنوعات اختیار کرنے کا رجحان نوجوانوں کے مقابلے میں بہت کم تھا، حالانکہ اس عمر کے افراد سگریٹ نوشی ترک کرنے سے فوری طور پر زیادہ صحت کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ویپنگ اب سگریٹ نوشی کے مقابلے میں زیادہ عام ہو چکی ہے۔
پروفیسر کمنگز نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ طویل عرصے سے سگریٹ نوشی کرنے والے عمر رسیدہ افراد کم خطرے والی غیر جلنے والی نکوٹین مصنوعات کی جانب اتنی تیزی سے منتقل نہیں ہو رہے، یہی وہ گروپ ہے جو سگریٹ نوشی ترک کرنے سے فوری طور پر سب سے زیادہ صحت کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق کو امریکی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے مالی معاونت فراہم کی، جبکہ ویپنگ انڈسٹری کی جانب سے کوئی مالی تعاون نہیں کیا گیا۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

WhatsApp
Get Alert