وزیرداخلہ محسن نقوی وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں، ان کا بیان ذاتی ہے یا حکومت کا، وضاحت ہونی چاہیے، مولانا فضل الرحمن
اگر نظام ناکام ہے تو محسن نقوی حکومت سے کہیں کہ مستعفیٰ ہو جائے یا خود استعفیٰ دے دیں، جے یو آئی صوبوں کے قیام کے خلاف نہیں لیکن وقت درست نہیں

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیرداخلہ محسن نقوی وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں ، انہیں وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے کس حیثیت میں بیان دیا ہے، اگر نظام ناکام ہے تو محسن نقوی حکومت سے کہیں کہ مستعفیٰ ہو جائے یا پھر محسن نقوی خود استعفیٰ دے دیں لیکن انہوں نے نوکری بھی اسی تنخواہ میں کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں ، جمعیت علماء اسلام صوبوں کے قیام کی اصولی طور پر مخالف نہیں لیکن کیا یہ وقت صوبوں کے قیام کے لیے درست ہے ؟، بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، محمود خان اچکزئی علاقائی،حلقے یا قومیت کے بجائے ملکی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں جس میں مسائل پر بات ہو، ملک میں سب سے بڑی اسٹریٹ پاو ر جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے ،نوجوانوں کو جذباتی ہو کر تحریک نہیں بلکہ تجربہ کار سیاستدانوں کی تقلید کرنی چاہیے۔یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ،اراکین صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، جمعیت علماء اسلام کے رہنما ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، آغا محمود شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے حالات ابتر ہوچکے ہیں مسلح گروہ فعال ہین عوام پریشان ہیں لوگ اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے نہ گھروں میں محفوظ ہیں لیکن معاملات چلانے والے صورتحال سے غافل ہیں ملک میں اس وقت کوئی بھی قومی پالیسی نہیں ہے جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال مسائل حل نہیں ہے اس سے مسائل الجھتے ہیں آج کشمیر کے لوگ بھی اضطراطب میں ہیں 2ماہ سے وہ کہہ رہے ہیں کہ مسائل کا حل نکالیں حکومت نہ انہیں جواب دے رہی ہے اور نہ کردار ادا کرنے دے رہی ہے اس وقت قومی سطح پر مشاورت اور انصاف پر مبنیٰ پالیسی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے ، ڈویژن ، اضلاع ، تحصیلیں بنانا انتظامیہ معاملہ ہے بھارت میں بھی صوبے بنے ہمیں ملک کی انتظامی ساکھ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی ہمارے برخر دار ہیں وہ وقت سے کچھ پہلے بالغ ہوگئے ہیں ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کا بیان ذاتی حیثیت میں دیا گیا ہے یا نہیں ، وہ کابینہ کے رکن ہیں کیا انہوں نے اس بیان سے قبل وزیراعظم کو اعتماد میں لیا ہے ؟ وزیراعظم کو بھی اس پر وضاحت کرنی چاہیے یا پھر محسن نقوی نے کسی اور کی طرف سے یہ بات کی ہے اسے بھی واضح کیا جائے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ صوبے بنانا بری بات نہیں ہے لیکن کیا یہ وقت ہے کہ ملک میں صوبے بنائے جائیں ؟ بغیر تیاری کے ایک ایسے اقدامات نہیں کیے نہیں جاسکتے جب فاٹا کا انضمام کیا گیا اس وقت بھی میں ایک سال تک چیختا رہا کہ انضمام نہ کیا جائے لیکن وہ فیصلہ بھی ہم پر تھونپ دیا گیا اس قت فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا کہ وہ الگ صوبہ، ضلع یا انضمام چاہتے ہیں آج کہا جارہا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ملک کوئی کیک نہیں جسے چھری کے ساتھ کاٹ لیا جائے کیا ملک اس وقت نئے صوبوں کے قیام کے لیے تیار ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ جب 5بھائیوں کے مشترکہ گھر میں آگ لگی ہو تو وہ آگ بھجائیں گے یا پھر گھرکو تقسیم کریں گے ؟ یہ مہنگائی، بد امنی سمیت اہم معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک الگ بحث شروع کر کے اس میں الجھا دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اصولی طور پر صوبوں کے قیام کے خلاف نہیں ہے لیکن اگر نئے صوبوں کا قیام قومیتوں ، انتظامی بنیادوں پر کیا جارہا ہے تو اس کی کیا شکل بنے گی کیا عوام اسے تسلیم کریں گے اور ان کا رد عمل کیا ہوگا یہ چیزیں دیکھنی ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشکل مسئلے کو آسانی سے پیش کرکے اس میں ہاتھ ڈال دیا گیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے کوئٹہ میں جرگہ بلائے جانے کا علم نہیں لیکن محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں وزیراعظم کے بعد ان کی اپنی حیثیت ہے انہیں ایک حلقے یا قومیت نہیں بلکہ پوری اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے جس میں ملکی سطح کے مسائل پر بات ہو اور پالیسی مرتب کی جائے اگر وہ نہیں کر سکتے تو پھر جمعیت علماء اسلام ملکی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میری پوری زندگی جمعیت علماء اسلام کے نظریے کو فروغ دینی میں گزری ہے دنیا بھر میں جمہوریت ، آمریت ، کمیونزم کے نظام ناکام ہوچکے ہیں اس وقت مغربی سرمایہ دارنہ اور ظلم و جبر ،عسکریت کا نظام رہ رگیا ہے ہم نے ہمیشہ آئین کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں جمہوری نظام کی بات ہے ملک میں مارشل لاء لگے ، سیاستدانوں کو موقع نہیں دیا گیا جب حکومتیں بنیں تو وہ اسٹیبلشمنٹ کی انجینئرنڈ دھاندلی سے بنائی گئیں جو انہی کی ایماء پر کام کرتی رہیں ملک کو آئین کے مطابق چلانے کے لیے مسلسل بات کر رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت نہیں ہے ،پارلیمنٹ کی حیثیت ختم کردی گئی ہے اب ہم نے کیا کرنا ہے ؟ اسکا آج بھی ہمارے پاس ہے اور کل بھی تھا ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے ،عوام کا اعتماد بحال کیا جائے اور جبرا ً کے بجائے عوام کی مرضی سے حکومت بنائی جائے ۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر نظام ناکام ہے تو محسن نقوی حکومت سے کہیں کہ مستعفیٰ ہو جائے یا پھر محسن نقوی خود استعفیٰ دے دیں لیکن انہوں نے نوکری بھی اسی تنخواہ میں کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں آئین کی اصلاح کی گئی 9ماہ تک اس میں مشاورت ہوئی 26ویں آئینی ترمیم میں بھی جمعیت علماء اسلام واحد جماعت تھی جس نے مذاکرات کر کے 34شقوں کو ختم کروایا، سودی نظام کا خاتمہ ، مدارس ،وفاقی شرعی عدالت سمیت دیگر مطالبات پر عملدآمد کروایا آج حکومت ان پر عملدآمد نہیں کر رہی 27ویں کے بعد 28ترمیم میں اب آئین کی روح کے منافی اور برے مقاصد حاصل کر نے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم اس پر جدوجہد جاری رکھیں گے ہم کسی کو حق نہیں دیں گے کہ آئین و پارلیمنٹ کو کھولنا بنائے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسری کی حریف ہوتی ہیں لیکن جب سیاستدان اسٹیلمشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے مرضی کے مطابق 5سال ڈالتا ہے اس کا ملبہ تمام سیاستدانوں پر نہ ڈالا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت تک فیصلہ یہی ہے کہ ہم حکومت میں شامل نہیں ہونگے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی اس حوالے سے ملاقات کی تھی لیکن ہماری جماعت اب تک اس نتیجے پر نہیں پہنچی کہ ہم حکومت کا حصہ بنیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑی تحریک جمعیت علماء اسلام چلا رہی ہے ہم نے پنجاب کے ایسے شہر میں جلسہ کیا جو نہ ضلعی اور نہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہے وہاں بھی جو عوام آئی وہ اب تک لوگوں سے ہضم نہیں ہورہی سب سے بڑی اسٹریٹ پاور جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نوجوان جذباتی ہوتے ہیں لیکن نئے چہرے فلموں کی اصطلاح ہے سیاست کی نہیں جو لوگ سیاست میں وقت گزار چکے ہوتے ہیں وہ تجربے کی بناء پر بہتر طریقے سے فیصلے کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں سے امیدیں وابستہ ہیں ہم چاہتے کہ وہ جذبات میں ایسی تحریک نہ شروع کریں جس سے بحران پیدا ہو ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ قابل احترام ہیں ان سے ملاقات ہوئی تھی اس وقت مجھے علم نہیں کہ وہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں ۔
