مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرار داد پیش

بھارت نے کشمیریوں سے انکی شناخت اور حقوق چھین لئے، قانونی اور سفارتی معاونت کے لئے جامع قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے: قرارداد کا متن


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کئے جانے کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ مذمتی قرار داد پیش کر دی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے صوبائی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی جانب سے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔
قرار داد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 370 مقبوضہ وجموں کشمیر کو اپنا آئین، اپنا جھنڈا اور اندرونی خود مختاری دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 35(A) ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری نوکریوں، جائیداد اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا ہے۔ بھارت نے ان دونوں آرٹیکلز کو ختم کرکے مقبوضہ و جموں کشمیر کے عوام سے انکی شناخت اور بنیادی حقوق چھین لئے ہیں۔
قرارداد کے متن میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مقبوضہ و جموں کشمیر میں ریاستی دہشتگردی، محاصرے، گرفتاریوں اور میڈیا پر پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ قرار داد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور پاکستانی قوم مقبوضہ و جموں کشمیر کے مظلوم عوام کو تنہاء نہیں چھوڑیں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ وجموں کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لئے ایک جامع قومی لائحہ عمل بھی تشکیل دیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert