بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انتظامی بحران؛ 46 کروڑ روپے کے فنڈز لیپس

مستقل چیئرمین کی عدم تقرری، ملازمین کی تنخواہیں رکی ہوئیں، ٹھیکیدار شدید پریشان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی(بی ڈی اے)میں جاری سنگین انتظامی بحران، 46 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے، عدالتی احکامات کے باوجود مستقل چیئرمین کی عدم تقرری اور ادارے کی مجموعی کارکردگی میں مسلسل تنزلی پر مختلف حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلی حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی ڈی اے، جو بلوچستان میں شہری ترقی، انفراسٹرکچر اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا اہم ترین ادارہ تصور کیا جاتا ہے، گزشتہ کافی عرصے سے مستقل قیادت سے محروم ہے، جس کے باعث ادارے کے انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں مبصرین کے مطابق کسی بھی بڑے سرکاری ادارے کی مثر کارکردگی کے لیے مستقل انتظامی قیادت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، تاہم بی ڈی اے میں مستقل چیئرمین کی عدم تعیناتی نے ادارے میں فیصلہ سازی کے عمل کو سست اور غیر مثر بنا دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حوالے سے عدالت کی جانب سے بھی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال مستقل چیئرمین کی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی، جس پر قانونی اور انتظامی حلقوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ادارے کے ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ انہیں کئی ماہ سے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں ہو سکی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ معاشی مشکلات سے نکل سکیں دوسری جانب بی ڈی اے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے متعدد ٹھیکیدار بھی ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے باعث وہ مالی بحران سے دوچار ہیں، مزدوروں کو اجرت دینا مشکل ہو گیا ہے جبکہ کئی منصوبوں پر کام مکمل طور پر رک چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو متعدد جاری منصوبے مزید تاخیر کا شکار ہو جائیں گے جس سے صوبے کی ترقی متاثر ہوگی یو این ایکے مطابق ادارے میں موجود انتظامی کمزوریوں کا سب سے بڑا اظہار اس وقت سامنے آیا جب تقریبا 46 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہو گئے۔ یہ فنڈز مختلف عوامی فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے تھے، تاہم بروقت منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور انتظامی اقدامات نہ ہونے کے باعث یہ خطیر رقم استعمال نہ ہو سکی اور واپس چلی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ عوامی وسائل، ترقیاتی عمل اور حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سول سوسائٹی، انجینئرز، سماجی حلقوں اور مختلف عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حیران کن امر یہ ہے کہ اتنے بڑے مالی نقصان کے باوجود نہ کسی قسم کی باضابطہ انکوائری کی گئی، نہ کسی افسر یا ذمہ دار شخصیت کا تعین کیا گیا اور نہ ہی عوام کو اس بارے میں اعتماد میں لیا گیا کہ آخر اتنی بڑی رقم کیوں اور کیسے لیپس ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے معاملات پر بھی خاموشی اختیار کی جائے تو احتساب کے پورے نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک سرکاری ادارے تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے مستقبل، ترقیاتی منصوبوں، قومی وسائل کے تحفظ اور حکومتی شفافیت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ترقیاتی فنڈز اسی طرح ضائع ہوتے رہے تو صوبے کی پسماندگی مزید بڑھے گی اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گے مختلف عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان اور معزز چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ بی ڈی اے کے اس پورے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے ادارے کے لیے مستقل چیئرمین تعینات کیا جائے، 46 کروڑ روپے کے فنڈز لیپس ہونے کے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بی ڈی اے کے ملازمین کی تمام واجب الادا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں، ٹھیکیداروں کے بقایاجات کلیئر کیے جائیں، رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ فعال بنایا جائے اور ادارے میں مثر انتظامی اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ مستقبل میں عوامی وسائل کے ضیاع کی روک تھام ممکن ہو سکے اور بلوچستان میں ترقی کا عمل دوبارہ تیزی سے آگے بڑھ سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مثر اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف بی ڈی اے کا انتظامی بحران مزید سنگین ہو جائے گا بلکہ صوبے کے اہم ترقیاتی منصوبے بھی طویل عرصے تک متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp
Get Alert