مہنگائی نہیں، آمدن اصل مسئلہ ہے، جاوید چوہدری کا تجزیہ
مالی استطاعات اصل ایشو ہے، آپ نے پیسہ کمانا ہے، کمائیں گے تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی اور اگر نہیں کمائیں گے تو دنیا میں کوئی چیز سستی نہیں ہو سکے گی، پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کو اصل مسئلہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ بنیادی مسئلہ لوگوں کی قوتِ خرید اور آمدن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مہنگائی ہر جگہ موجود ہوتی ہے، لیکن اگر لوگوں کی آمدنی بہتر ہو تو وہ اپنی ضروریات آسانی سے پوری کر لیتے ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید چوہدری کامزید کہنا تھا کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ مہنگائی ایشو ہی نہیں، اصل مسئلہ مالی استطاعت ہے۔
اگر آپ پیسہ کمائیں گے تو ہر چیز قابلِ برداشت ہو جائے گی، لیکن اگر آمدن نہیں ہوگی تو دنیا میں کوئی بھی چیز سستی محسوس نہیں ہوگی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے انسان کی صحت زیادہ کھانے سے خراب ہوتی ہے مگر علاج ڈاکٹر کے بجائے کچن میں ہونا چاہیے، اسی طرح معاشی مسائل کی جڑ بھی درست جگہ پر تلاش کرنا ضروری ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ مہنگائی ایشو ہے ہی نہیں دنیا میں مہنگائی کوئی ایشو نہیں ہے affordability ایشو ہے آپ نے پیسہ کمانا ہے کمائیں گے تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی اور اگر کمائیں گے نہیں تو دنیا میں کوئی چیز سستی نہیں ہو سکے گی ۔۔ جاوید چوہدری pic.twitter.com/pHV5ohGfB9
— Exact Press International (@ExactPressIntl) August 7, 2026
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کو پاکستان کے مالی مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اپنی مجموعی آمدن کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کر دیتا ہے جبکہ صرف 42.5 فیصد اپنے پاس رکھتا ہے۔
اسی رقم سے وفاق کو قرضوں کی اقساط، سود، دفاعی بجٹ اور دیگر قومی اخراجات پورے کرنا پڑتے ہیں، جس کے باعث وہ ابتدا ہی سے مالی خسارے کا شکار ہو جاتا ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق جب تک این ایف سی ایوارڈ میں مناسب ترامیم نہیں کی جاتیں اور وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام پر نظرثانی نہیں ہوتی، وفاق کے مالی مسائل برقرار رہیں گے اور معیشت کو مستحکم کرنا مشکل رہے گا۔
