حکومت کے وزراء خود بول پڑے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے، سسٹم ناکام ہوگیا ہے
آرکیٹیکٹ نے ان کو بتا دیا ہے کہ یہ گھر گرنے والا ہے، حکومت مانے یا پھر وزراء کو شوکاز نوٹس دے، حکومت کو وضاحت تو کرنا پڑے گی۔ سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی ندیم افضل چن

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت کے وزراء خود بول پڑے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے، سسٹم ناکام ہوگیا ہے، آرکیٹیکٹ نے ان کو بتا دیا ہے کہ یہ گھر گرنے والا ہے، حکومت مانے یا پھر وزراء کو شوکاز نوٹس دے، حکومت کو وضاحت تو کرنا پڑے گی۔ ہم نیوز کے پروگرام میں اینکر عاصمہ شیرازی نے سوال کیا کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے کیا؟ جس پر سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت کے وزراء خود بول پڑے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔
محسن نقوی، خواجہ آصف، احسن اقبال، علیم خان، حکومتی کابینہ میں بات شروع ہوگئی ہے کہ سسٹم ناکام ہوگیا ہے۔
حکومت یا مانے یا وزراء کو شو کاز نوٹس دے، حکومت کو وضاحت تو کرنا پڑے گی۔ کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی نے حکومت کی دھاندلی کو بےنقاب کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ اگر الیکشن ہی شفاف نہیں ہوں گے تو ملک کیسے چلے گا۔
ہم نے ووٹ دے کر حکومت ضرور بنوائی ہے مگر ان کی دھاندلیوں کا دفاع نہیں کریں گے۔ سیکیورٹی پالیسیز، ایران جنگ میں کردار اس سب پر ہم ان کے ساتھ ہیں مگر مہنگائی اور عوام معاملات پر نہیں۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو وزیراعظم کے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کی پیش کش کر دی ہے، دس لوگ بیشک آئیں، سامنے بیٹھیں اور وزیراعظم سے بات کریں، عمران خان سے ملاقات سمیت جو بھی مطالبات ہیں وہ وزیراعظم کے سامنے رکھیں۔
پی ٹی آئی کو سنجیدہ مشورہ ہےکہ مذاکرات کے لیے آپسی اختلافات، دھڑے بندی ختم کریں۔ اب تو پیپلز پارٹی کو بھی خواہش ہو گئی ہے کہ ایک صفحے کو کسی طریقے سے توڑیں، یہی خواہش پی ٹی آئی کی پہلے دن سے ہے۔ محسن نقوی کے بیان پر پیپلز پارٹی خوش ہے۔ اس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ آپ کہہ دیں کہ یہ پیپلز پارٹی نے کروایا ہے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں پر سیاسی بجث ہونی چاہیے، دیکھیں کہاں ضرورت ہے کہاں نہیں ہے۔
یہ بجث تو کئی سالوں سے چل رہی ہے۔ محسن نقوی نے کیا نئی بات کی ہے۔۔ دوسری بات انہوں نے کہا کہ سسٹم خراب ہو گیا ہے۔۔ اصل بات یہ ہے کہ سسٹم میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ میں نے پندرہ سال بعد آج ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو کسی پروگرام میں مشکل میں دیکھا ہے۔ چیف وہیپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے کہا کہ سات اگست کو قومی اسمبلی کا طے شدہ اجلاس نہیں ہو پا رہا، وجوھات سب کو معلوم ہیں۔
محسن نقوی کے حالیہ بیانات کے بعد حکومت گھبرا رہی ہے۔ آج اسپیکر سے میٹنگ میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اگست کو ہو گا۔ حکومتی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئے۔ حکومت نے مذاکرات کی آفر کی ہے جس پر لیڈر آف اپوزیشن اور پی ٹی آئی قائدین کے درمیان بات چیت ہو گی۔ حکومت نے گزشتہ روز کے پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد یہ آفر کی ہے۔
عمران خان کو تین سال جیل میں ہونے والے ہیں، حکومت انہیں قیدی کے حقوق دینے کو تیار نہیں تو ہمیں سخت فیصلہ کرنا پڑے گا۔چیف وہیپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے کہا کہ حکومت مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لیے پہلے ہمارے دو مطالبات مانے پھر مذاکرات کر لے۔۔ عمران خان کی فیملی سے ملاقات کروا دیں۔ حکومتی نظام تو اس وقت ناکام ہو گیا تھا جب انہوں نے دھاندلی کر کے دوسرے کی کرسی خود لے لی۔ نظام 8 فروری کو ختم ہو چکا ہے۔ ندیم افضل چن نے معنی خیز اشارہ کیا کہ آرکیٹیکٹ نے ان کو بتا دیا ہے کہ یہ گھر گرنے والا ہے۔ ہم اس گھر سے نکل جائیں گے، میں کہتا ہوں ملک سیاستدانوں کو چلانا چاہیے، کسی اور کو حق نہیں۔ آپ کہہ کر دکھائیں۔
