سرمایہ کاری کے دعوے دھرے کے دھرے، شہبازشریف کی حکومت میں قرض تقریباً 75 فیصد بڑھ گیا

ملکی قرض 83 ہزار 600 ارب تک جا پہنچا، صرف ایک سال میں 5 ہزار 800 ارب روپے قرض بڑھا، آئی ایم ایف اور کچھ دوسرے ممالک سے لیا گیا قرض اس میں شامل نہیں؛ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان کے وفاقی حکومت کے براہ راست قرضوں کا حجم جون 2026ء تک بڑھ کر 83 ہزار 600 ارب روپے ہوگیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 ہزار 800 ارب روپے یا 7.3 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ چار سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرض میں مجموعی طور پر 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پاکستان کی مالی پوزیشن مبینہ طور پر اب بھی کمزور ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے معاشی اثرات خصوصاً توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ملکی معیشت کے لیے مزید خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔
انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025/26ء کے لیے مرکزی حکومت کے براہ راست قرضوں سے متعلق ڈیٹ بلیٹن جاری کیا اور بتایا کہ جون 2026ء کے اختتام تک وفاقی حکومت کا قرض 83.6 کھرب روپے تک پہنچ گیا، گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ حجم تقریباً 77.8 کھرب روپے تھا۔
بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ان قرضوں کو شامل نہیں کیا گیا جو پاکستان نے آئی ایم ایف اور بعض دوطرفہ قرض دہندگان سے حاصل کیے اور جو مرکزی بینک کی بیلنس شیٹ پر ظاہر کیے جاتے ہیں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے پاکستان کے مجموعی عوامی قرضوں کی مکمل تصویر آئندہ ماہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔


اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جون 2022ء کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے قرض میں 35.8 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے، اس طرح گزشتہ چار برس کے دوران مرکزی حکومت کے براہ راست قرضوں میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، قرض میں اضافے کی رفتار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ کم رہی، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری اور وزارت خزانہ کی جانب سے سول حکومتی اخراجات پر نسبتاً سخت کنٹرول بتایا گیا، تاہم بعض مواقع پر وزارت خزانہ نے ان پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اضافی گرانٹس بھی جاری کیں۔
بتایا جارہا ہے کہ اس عرصے کے دوران پاکستان آئی ایم ایف کے مختلف پروگراموں میں شامل رہا جبکہ حکومت نے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے عوام اور مختلف شعبوں پر اضافی مالی بوجھ عائد کیا، پٹرولیم لیوی، تنخواہ دار طبقے، رئیل اسٹیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر سے زیادہ ٹیکس وصول کیے گئے، دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی کی بڑھتی ہوئی لاگت، سماجی تحفظ کے پروگراموں کی مسلسل مالی معاونت، صوبوں کو منتقل کیے گئے بعض شعبوں سے متعلق وزارتوں کو برقرار رکھنے اور صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی وسائل مختص کیے جانے کے باعث حکومتی اخراجات بھی بلند رہے۔
وزارت خزانہ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ چار برس کے دوران وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی، صوبوں کے حصے کی ادائیگی سے قبل 107 فیصد بڑھی، تاہم اس کے باوجود قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، اسی عرصے میں حکومتی اخراجات میں بھی 66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، قرض کی پائیداری جانچنے کے لیے قرض اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل عوامی قرضوں کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لمیٹیشن ایکٹ کے تحت حکومت پر لازم ہے کہ وہ قرض میں ہر سال جی ڈی پی کے 0.5 سے 0.75 فیصد تک کمی لائے اور اسے 2032/33ء تک 50 فیصد تک محدود کرے، تاہم موجودہ حکومت بھی اپنے پیشروؤں کی طرح اس قانونی ہدف پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کر سکی، قرضوں کا بلند حجم معیشت کے پیداواری شعبوں میں حکومتی اخراجات کی گنجائش محدود کر رہا ہے، بجٹ کا تقریباً 42 سے 50 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں میں استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ رواں مالی سال قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8 کھرب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، این ایف سی کے تحت صوبوں کو 8.8 کھرب روپے فراہم کیے جانے ہیں، ایک سال کے دوران حکومت کے اندرونی قرض میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جون 2025ء میں وفاقی حکومت کا ملکی قرض 54.5 کھرب روپے تھا جو جون 2026ء تک بڑھ کر 59.5 کھرب روپے ہوگیا، یعنی ایک سال میں 5 کھرب روپے یا 9.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی دوران حکومت کا بیرونی قرض 23.4 کھرب روپے سے بڑھ کر 24.2 کھرب روپے ہوگیا، جس میں 783 ارب روپے کا اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال کے دوران روپے کی قدر میں بہتری کے باعث بیرونی قرض میں اضافے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں نسبتاً کم رہی، پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی شرائط پر دوطرفہ اور کثیرالجہتی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں مختصر مدت کے قرضوں کا بڑھتا ہوا حصہ قرضوں کی پائیداری کے لیے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اس سے ری فنانسنگ کے خطرات اور مجموعی مالی ضروریات میں اضافہ ہوتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert