جے یو آئی نظریاتی کا پشتون قومی جرگہ میں بھرپور شرکت اور حمایت کا اعلان بحران سے نجات کیلئے مذہبی و سیاسی قیادت کا متحد ہونا ناگزیر ہے، مولانا عبدالقادر لونی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان نے پشتون قومی جرگہ میں بھرپور شرکت اور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری بدامنی، استحصالی اقدامات، بنیادی حقوق سے محرومی اور آئینی بحران کے پیش نظر جرگہ بلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے پارٹی چیئرمین و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ہدایت پر جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی قائم مقام امیر مولانا عبدالقادر لونی سے ملاقات کرکے انہیں پشتون قومی جرگہ میں شرکت کی دعوت دی۔
اس موقع پر مولانا عبدالقادر لونی نے جرگہ میں بھرپور شرکت اور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو درپیش بدامنی اور بحرانوں سے نجات کے لیے مذہبی و سیاسی قیادت کا متحد ہونا ناگزیر ہوچکا ہے۔ جمعیت علما اسلام نظریاتی ہر مظلوم کی حمایت اور ہر ظالم کے خلاف جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاامتیاز تمام اقوام کے حقوق اور انصاف کے لیے جدوجہد جمعیت نظریاتی کے منشور کا حصہ ہے۔ تمام اقوام کے اجتماعی مسائل، امن، حقوق اور تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا سیاسی و مذہبی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش سنگین سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحران، جبر و زیادتی کی پالیسیوں اور عوامی مسائل پر خاموشی اختیار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ صوبے کے قدرتی وسائل، سوئی گیس، سیندک، ریکوڈک، کوئلے اور کرومائٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی اور رائلٹی میں مقامی آبادی کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم اور آئین میں صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل پر صوبے کے حق کے باوجود بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
قومی شاہراہوں پر عام شہریوں اور تاجروں کی جان و مال محفوظ نہیں، عدم تحفظ کے باعث ٹرانسپورٹ، تجارت اور آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحدی تجارت کی بندش، وسائل پر اختیار اور چیک پوسٹوں کے مسائل نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ملک میں جاری جمہوری اور آئینی بحران کے باعث پارلیمنٹ نے بھی اپنا وقار کھو دیا ہے، اس لیے پارلیمان کی بالادستی اور ریاستی اداروں کا آئینی حدود میں رہنا ضروری ہے۔مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے آج بلوچستان جل رہا ہے، موجودہ پیچیدہ بحران سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی و مذہبی قیادت کو مل بیٹھ کر متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔
