پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے تقریباً 5 لاکھ لوگ رجسٹرڈ ہوچکے، حامد میر کا دعویٰ
پنجاب سے سب سے زیادہ لوگوں نے آن لائن رجسٹر کروایا، حکومت بات چیت کرنے کیلئے راضی ہے، 14 اگست کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات ہوسکتی ہے؛ سینئر صحافی کی خبر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک کے معروف اینکر پرسن سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے اور پاکستان تحریک انصاف نے چاروں صوبوں میں لانگ مارچ کے لیے لوگوں کی رجسٹریشن شروع کر رکھی ہے، اب تک تقریباً 5 لاکھ افراد آن لائن رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے سب سے زیادہ افراد نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے خود کو آن لائن رجسٹر کروایا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے چاروں صوبوں میں کارکنوں اور حامیوں کو لانگ مارچ کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لانگ مارچ کی کال سہیل افریدی نے دی ہے مگر حیرنگی اس بات پر ہے پنجاب سے سب سے زیادہ لوگوں نے لانگ مارچ کے لئے خود کو online رجسٹر کروایا ہے۔ 5 لاکھ کے قریب لوگ اب تک رجسٹر ہو چکے ہیں۔۔ 🔥🔥
حامد میر pic.twitter.com/vi1hWTo2V4— INSAF LAW.pk (@insaff2006) August 13, 2026
اس موقع پر حامد میر نے یہ بھی کہا کہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کیلئے آمادہ ہے، 14 اگست کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات بھی ممکن ہے، بعض حکومتی وزراء کی جانب سے مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں، سیاسی سطح پر تحریک انصاف سے رابطوں کا سلسلہ مختلف سمتوں میں جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی تحریک انصاف سے رابطہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز دی ہے، تاہم پی ٹی آئی کو پیپلز پارٹی پر اعتماد نہیں ہے، دوسری جانب مسلم لیگ ن کے حلقوں میں یہ سوچ بھی موجود ہے کہ پیپلزپارٹی نئے صوبوں کے معاملے کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نئے صوبائی یونٹس کے قیام کے حق میں ہیں، ایسے میں مسلم لیگ ن کے تحریک انصاف سے رابطے اور نئے صوبوں کے معاملے پر تعاون کی بات چیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
🚨🚨 بریکینگ نیوز : سینئر صحافی حامد میر کی بڑی خبر!!!!🔥🔥🔥
حکومت بات چیت کرنے کیلئے راضی ہے, 14 اگست کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوسکتی ہے ۔ جب کہ کچھ وزراء کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کیلئے, وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی رابطے کئے جا رہے… pic.twitter.com/RbWzfRtgE1— Anisha KHAN (@anishakhanpti) August 13, 2026
حامد میر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی خواہش یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تحریک انصاف سے بات چیت کے ذریعے پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر کاؤنٹر کیا جائے اور عمران خان تک رسائی کے معاملے پر بھی پیش رفت کی جائے، تاہم عمران خان تک رسائی دینے کا فیصلہ صرف حکومت اکیلے نہیں کرسکتی، اس لیے اس معاملے میں دیگر متعلقہ حلقوں کا کردار بھی اہم ہوگا، آنے والے دنوں میں سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوگی اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عمران خان تک رسائی کے معاملے پر کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔
تجزیہ کار نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر مسلم لیگ ن سے ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے تحریک انصاف کو ساتھ ملا کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کر سکتے ہیں، ادھر مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے معاملے پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے اور پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر کاؤنٹر کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا چاہتی ہے۔
