فواد چوہدری کی سرکاری اعزازات پر تنقید، پنجابی ادب کو نظرانداز کرنے کا شکوہ
جہاں صالح ظافر کو تمغہ دے دیا تو پنکی کو بھی دے دیتے، ایوان صدر میں تمغوں کا امتیاز سٹور ہی کھل گیا ہے؛ سابق وفاقی وزیر کا طنز

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے صحافی صالح ظافر کو سرکاری اعزاز دیئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صالح ظافر کو تمغہ دیا گیا ہے تو ’پنکی‘ کو بھی دے دیتے، ایوانِ صدر میں تمغوں کا امتیاز اسٹور کھل گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سرکاری اعزازات کی تقسیم کے معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صالح ظافر کو ان سے متعلق مبینہ طور پر انتہائی نامناسب خبریں شائع کرنے کے باوجود ایوارڈ دیا جانا ان کے نزدیک انتہائی قابل اعتراض اقدام ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ سرکاری اعزازات کی تقسیم میں میرٹ اور معیار کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اعزازات کی تقسیم کے حوالے سے امتیاز اسٹور کھول دیا گیا ہو، ایسے میں اگر صالح ظافر کو تمغہ دیا گیا ہے تو پھر ’پنکی‘ کو بھی دے دیتے۔
جہاں صالح ظافر کو تمغہ دے دیا تو پنکی کو بھی دے دیتے۔۔ تمغوں کا امتیاز سٹور ہی کھل گیا ہے ایوان صدر میں ۔۔
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 14, 2026
فواد چوہدری نے اپنے بیان میں پنجاب اور پنجابی زبان و ادب کے حوالے سے بھی تفصیلی شکوہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پنجابیوں اور پنجابی زبان سے مبینہ بغض کی صورتحال یہ ہے کہ مختلف شعبوں میں ایسے افراد کو بھی ایوارڈ دیئے گئے جنہیں وہ ’چمچے کڑچھے‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ پنجابی ادب کے لیے سرکاری اعزاز نہ ہونے پر انہوں نے سوال اٹھایا۔
پنجابیوں اور پنجابی سے بغض کا اس ملک میں یہ عالم ہے کہ ہر شعبہ میں ہر چمچے کڑچھے کو ایوارڈ ملا اگر ایواڈ نہیں ہے تو پنجابی ادب کیلئے نہیں ہے ، اگر آپ پنجاب کے حق کی بات کر لیں تو مشرق سے مغرب بغض کے انگارے برسنے شروع ہو جاتے ہیں، پنجابی تو خیر اپنی زبان کو 1947 میں ہی دفن کر کے…
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 15, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شعبے میں ایوارڈ موجود نہیں تو وہ پنجابی ادب کے لیے نہیں ہے، اگر کوئی شخص پنجاب کے حقوق کی بات کرے تو اسے مختلف سمتوں سے مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فواد چوہدری نے پنجابی زبان کے حوالے سے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی خود اپنی زبان کو 1947ء میں ہی دفن کرکے خوش ہیں، انہوں نے پنجابی ادبی حلقوں سے اپیل کی کہ انہیں اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے اور پنجابی ادب و زبان کے لیے سرکاری سطح پر مناسب نمائندگی اور اعزازات کے مطالبے کو سامنے لانا چاہیے۔
