امپورٹڈ گاڑیوں پر بڑا فیصلہ، ایک سال تک ٹرانسفر پر پابندی عائد

کراچی (قدرت روزنامہ)اگر آپ بیرون ملک سے آئی ہوئی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے تھے تو یہ خبر آپ کو پریشان کر سکتی ہے۔
پنجاب میں امپورٹڈ گاڑی اب رجسٹریشن کے بعد ایک سال تک ٹرانسفر نہیں ہو سکے گی، یعنی خریدار کو گاڑی اپنے نام کروانے کے لیے پورا ایک سال انتظار کرنا پڑے گا۔
اب تک صورتحال یہ تھی کہ امپورٹڈ گاڑیاں رجسٹریشن کے ساتھ ہی فوری طور پر خریدار کے نام پر ٹرانسفر ہو جاتی تھیں تاہم نئی پالیسی کے تحت گاڑی صرف اسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہو گی جس نے اسے امپورٹ کیا ہے، اور ایک سال گزرنے سے پہلے آگے منتقل نہیں کی جا سکے گی۔
ایکسائز حکام کے مطابق گاڑیاں تین کیٹیگریز، ذاتی، گفٹ اور ریزیڈنس، کے تحت امپورٹ ہو رہی تھیں، اور تینوں میں امپورٹ کے بعد رجسٹریشن پر فوری ٹرانسفر ہو جاتی تھی۔
اب نئی اسکیم کے تحت یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے ، محکمہ ایکسائز نے اس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنے سسٹم میں باقاعدہ چیک بھی لگا دیا ہے، اس لیے اب اس کا اطلاق عملی طور پر شروع ہو چکا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کا نقصان صرف خریداروں کو نہیں ہو گا۔
حکام کے مطابق پنجاب بھر میں گاڑیوں کی کل رجسٹریشن میں اوسطاً 20 فیصد حصہ امپورٹڈ گاڑیوں کا تھا، اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی فوری ٹرانسفر رکنے سے محکمہ ایکسائز کو ریونیو کی مد میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یعنی ایک طرف خریدار کو ایک سال انتظار کرنا ہو گا، اور دوسری طرف محکمے کی آمدن بھی متاثر ہو گی، اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی میں کوئی تبدیلی یا رعایت سامنے آتی ہے یا نہیں؟
فی الحال امپورٹڈ گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے اس نئی شرط کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
