ہوشیار! واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ کا نیا طریقہ سامنے آ گیا

کراچی(قدرت روزنامہ) موبائل فون صارفین ہوشیار ہو جائیں کہ واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ کا نیا طریقہ سامنے آیا ہے جس کا نشانہ خاص طور پر خواتین ہیں۔
دنیا بھر میں سائبر کرائم تیزی سے پھیل رہا ہے کہ سائبر مجرمان نت نئے طریقوں کے ذریعے صارفین کو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی کئی طریقوں سے سائبر کرمنلز سرگرم ہیں اور اب واٹس ایپ کے ذریعے سادہ لوح صارفین کو لوٹنے کا نیا طریقہ سامنے آیا ہے، جس کا خاص نشانہ گھریلو خواتین ہیں۔
نیا فراڈ جعلی پارسل ڈیلیوری کالز کے ذریعے آیا ہے، اس جعلسازی میں فراڈی مبینہ طور پر خود کو معروف کوریئر کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے واٹس ایپ کال کرتے ہیں اور اسی دوران واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر کے متاثرین کے رشتے داروں اور دوستوں سے سمجھوتہ کیے گئے اکاؤنٹس کا استعمال کر کے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جعلساز شہریوں سے رابطہ کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کوریئر کمپنی سے بات کر رہے ہیں اور ان کے لیے پارسل آ گیا ہے۔ وہ وصول کنندہ کو بتاتے ہیں کہ ڈیلیوری مکمل کرنے یا ایڈریس کی تصدیق کے لیے ان کے موبائل فون پر ایک تصدیقی کوڈ (او ٹی پی) بھیجا جائے گا۔
اس کے بعد دھوکہ باز شہری سے واٹس ایپ پر موصول ہونے والے کوڈ (او ٹی پی) کو شیئر کرنے کو کہتے ہیں۔
جیسے ہی متاثرہ شخص تصدیقی کوڈ فراہم کرتا ہے، جعلساز متاثرہ کا فون نمبر استعمال کرتے ہوئے کسی اور ڈیوائس پر واٹس ایپ اکاؤنٹ رجسٹر کر لیتے ہیں اور اکاؤنٹ کو اپنے کنٹرول میں لے لیتے ہیں۔
رسائی حاصل کرنے کے بعد، جعلساز خود کو اکاؤنٹ ہولڈر کے طور پر ظاہر کرتے متاثرہ شخص کے واٹس ایپ میں شامل خاندان کے افراد، دوستوں، ساتھیوں اور جاننے والوں کو پیغامات بھیج کر ان سے کوئی بھی ایمرجنسی ظاہر کے فوری رقم منتقلی کی درخواست کرتے ہیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور کبھی بھی کسی کے ساتھ واٹس ایپ کے تصدیقی کوڈز کا اشتراک نہ کریں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پارسل سے متعلق کال موصول کرنے والے افراد متعلقہ کوریئر کمپنی سے باضابطہ رابطہ کر کے کال کرنے والے کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں۔
یاد رکھیں کہ سائبر کرمنلز بینک، موبائل کمپنی، کوریئر سروس کے نمائندے یا سرکاری ادارے کا افسر بن کر آپ سے فراڈ کر سکتے ہیں۔
