نئے صوبوں کی تشکیل کا استعماری منصوبہ ، یپشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قومی وحدتوں پر مشتمل حقیقی جمہوری فیڈریشن تشکیل دی جائے: : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں ملک میں ڈویژنل بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کو ملک دشمن اور استعماری منصوبہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 1940ء کی قراردادِ لاہور درحقیقت خودمختار اور مقتدر قومی ریاستوں پر مشتمل یونین کے قیام کی قرارداد تھی۔ 1940ء کے کیبنٹ مشن پلان میں ایسی یونین کی ہر قومی وحدت کو دس سال بعد یونین سے علیحدہ ہونے کا حق دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن کے تقسیمِ ہند کے پلان میں قومی وحدتوں کی منتخب اسمبلیوں کو پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا تھا، اور پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور بنگالی قومی وحدتوں کی منتخب اسمبلیوں نے پاکستان کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ اس طرح پاکستان کو قومی وحدتوں نے وجود بخشا۔ استعماری حکمرانوں کو اس ملک کی قومی وحدتوں کو تقسیم کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد اس ملک پر انگریز استعمار کے پروردہ استعماری اور رجعتی قوتوں کا غلبہ قائم ہوا، جنہوں نے اس ملک میں قومی وحدتوں کی برابری پر مبنی جمہوری فیڈریشن کی تشکیل اور عوام کی جمہوری حکمرانی کا راستہ طویل فوجی آمریتوں کے ذریعے روک دیا۔ 23 سال کے بعد عوام کو ووٹ کا حق حاصل ہوا، لیکن انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرکے ملک کو دو لخت کیا گیا۔ پھر 1973ء کے آئین کو چار سال بعد ختم کیا گیا۔ قومی وحدتوں کی جمہوری قوتوں نے طویل قربانیوں کے بعد 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم کو ممکن بنایا، جو اس ملک کی قوموں اور عوام کے خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی بہترین ضمانت تھی، لیکن استعماری حکمرانوں نے 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اب اس ملک پر غیر اعلانیہ بدترین مارشل لا مسلط ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملک کے مقتدرین نے تاریخی قومی وحدتوں کے قومی وجود، قومی تشخص، خودمختار اور مقتدر حیثیت کو نئے صوبوں کے نام پر تقسیم کرنے کا استعماری منصوبہ بنایا ہے، جو مملکتِ پاکستان کے وجود کے خاتمے پر منتج ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے استعماری حکمرانوں نے تاریخی پشتونخوا وطن کی استعماری تقسیم کو اب تک برقرار رکھا ہے۔ جنوبی پشتونخوا، شمالی پشتونخوا اور اٹک و میانوالی کی وحدت پر مبنی بولان تا چترال متحد و قومی صوبے کے حق سے پشتون قومی وحدت آج بھی محروم ہے، جبکہ سرائیکی قومی وحدت کی خودمختار حیثیت سے بھی انکار کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں جمہوری فیڈریشن کی تشکیل کے لیے لازم ہے کہ اس ملک میں زبان، ثقافت اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قومی وحدتوں پر مشتمل حقیقی جمہوری فیڈریشن تشکیل دی جائے اور قومی اسمبلی سمیت تمام وفاقی اداروں میں قوموں کی برابری کا حق تسلیم کیا جائے۔ دفاع، خارجہ امور، کرنسی اور مواصلات کے علاوہ تمام امور کے اختیارات قومی وحدتوں کے حوالے کیے جائیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس ملک کے پشتون اور دیگر قومی وحدتیں اپنے تاریخی، خودمختار اور مقتدر قومی وجود اور قومی تشخص سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی نئے صوبوں کے نام پر قومی وحدتوں کی تقسیم کے استعماری منصوبے کو قبول کریں گے۔ بیان میں تمام محکوم اقوام کی جمہوری اور وطن پال قوتوں سے پْرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ باہم متحد و منظم ہو کر نئے صوبوں کے استعماری منصوبے کو عوام کی مزاحمتی طاقت کے ذریعے ناکام بنائیں۔

WhatsApp
Get Alert