کیا عمران خان نے بہنوں کو سیاست سے روکنے کا کہا؟ اس معاملے پر علیمہ خان کا ردِعمل آگیا

یہ نہ تو نورین آپا کو کہا نہ ہی ڈاکٹر عظمی کو کہا ہے، تو پھر یہ ایجنسیوں والوں کی خبریں آپ پھیلا رہے ہیں؛ صحافی کو جواب


راولپنڈی(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمران خان نے انہیں يا ان کی بہنوں کو سیاست سے دور رہنے کا کوئی حکم نہیں دیا، یہ تمام باتیں ایجنسیوں کی پھیلائی ہوئی خبریں ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران علیمہ خان سے سوال ہوا کہ ’عمران خان نے نورین نیازی کو کہا سیاست میری پارٹی کا کام ہے، میری بہنوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ یہ نہ تو نورین آپا کو کہا نہ ہی ڈاکٹر عظمی کو کہا ہے، تو پھر یہ ایجنسیوں والوں کی خبریں آپ پھیلا رہے ہیں‘۔


انہوں نے مزید کہا کہ جب سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم دیا گیا تو عدالت عظمیٰ سے انے والی یہ خبر دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک میں بریکنگ نیوز بن کر چلی، اگر اب بھی انہیں ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا تو عالمی میڈیا دوبارہ یہی خبریں نشر کرے گا، جس سے حکمران خود اپنے ملک کی دنیا بھر میں بے عزتی کروا رہے ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے انہیں میڈیکل رپورٹس پر براہِ راست بات کرنے سے روکا تھا اور وہ اس عدالتی حکم کی پوری پاسداری کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، انہوں نے پریس کانفرنس میں وہی حقائق بیان کیے ہیں۔ قبل ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں جج امجد علی شاہ کے سامنے نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی، پراسیکوشن کی جانب سے گواہ فتح اللہ برکی سے علیمہ خان کی مبینہ بے نامی جائیداد سے متعلق سوال پوچھنے پر علیمہ خان خود روسٹرم پر آ گئیں اور کہا کہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔
علیمہ خان کے بیان لکھوانے پر ان کے اپنے وکیلِ صفائی فیصل ملک نے انہیں روکنے کی کوشش کی، اس موقع پر جج امجد علی شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ عدالت ہے، عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں‘، صورتحال کشیدہ ہونے پر جج امجد علی شاہ اپنی نشست سے اٹھے اور چیمبر میں چلے گئے، جس کے باعث کیس کی سماعت میں تعطل آ گیا۔

WhatsApp
Get Alert