’پیپلزپارٹی جیسے ہی 28 ویں ترمیم آئے گی اس کا مسودہ دیکھتے ہی انکار کر دے گی‘

ایسے میں پی ٹی آئی اگر نئے صوبوں کی ترمیم پر ساتھ دے دیتی ہے تو عمران خان کو ضمانت مل سکتی ہے، ضمانت کا کیا ہے ہوجائے گی، کوئی بندہ تے نئیں ماریا ناں یار! اینکر پرسن منیب فاروق کا وی لاگ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اینکرپرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نئے چھوٹے صوبوں کی قیام کا ایجنڈا انتہائی تیز رفتاری اور طاقت سے فالو کیا جا رہا ہے، جس کے لیے باقاعدہ ورکنگ پیپرز اور آئینی مسودے تیار کیے جا چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وقت ضائع کیے بغیر چھوٹے صوبوں کے قیام کی شقوں کو آئندہ آنے والی 28ویں آئینی ترمیم کا ہی حصہ بنایا جائے، پاکستان پیپلز پارٹی جیسے ہی اس ترمیم کا مسودہ دیکھے گی، وہ فوراً انکار اور اس کی شدید مخالفت کرے گی، پیپلز پارٹی کے اس متوقع انکار کے بعد پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی سلور لائننگ یعنی امید کی کرن پیدا ہو جائے گی، اگر پی ٹی آئی نئے صوبوں کے قیام کے لیے اس ترمیم پر حکومت کا ساتھ دے دیتی ہے تو عمران خان کے لیے ریلیف کے راستے کھل سکتے ہیں، عمران خان نے کون سا کوئی بندہ قتل کیا ہے جو ان کی ضمانت نہیں ہوسکتی، ضمانت ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔


رکن قومی اسمبلی رمیشن کمار کی جانب سے ریٹائرڈ شخصیات کے ذریعے معاملات طے کروانے کی خبروں کو رد کرتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ محض بغیر خبر کے آؤٹ آف جاب سیاستدانوں کی ہوائی فائرنگ اور سازشی تھیوریز ہیں تاکہ وہ خبروں میں زبردستی زندہ رہ سکیں۔
اینکر پرسن نے مزید بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ کا چھوٹے صوبوں کے حوالے سے بہت واضح نقطہ نظر بن چکا ہے، سیاستدان اکثر یہ عذر تراشتے تھے کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا لیکن اب انہیں عوامی مطالبات کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے، پاکستان کے عوام انتظامی سہولت اور مسائل کے حل کے لیے چھوٹے صوبے چاہتے ہیں، چنانچہ اب جو بھی سیاسی جماعت اس ترمیم کی مخالفت کرے گی، وہ دراصل پاکستان کے عوام کے مفاد اور خواہش کی مخالفت کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert