’میں اس کیس کو چھوڑوں گی نہیں‘ ثاقب چدھڑ کو بے قصور قرار دینے پر مومنہ اقبال کا ردعمل

میں نے قانون پر اعتماد کرکے آنکھیں بند کرلی تھیں، آپ جس جس کو مینج کرسکتے ہیں یا فون کروا سکتے ہیں کروائیں، اب ثبوت عوام کے سامنے رکھوں گی، پھر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے؛ اداکارہ کی میڈیا سے گفتگو


لاہور (قدرت روزنامہ)معروف اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے وکیل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چڈھر کو بے قصور قرار دیئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی ادارے کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھادیئے۔ سیشن عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ میں نے قانون پر اعتماد کرتے ہوئے آنکھیں بند کرلی تھیں، لیکن این سی سی آئی اے نے ملی بھگت سے ہمیں بتائے بغیر تفتیش تبدیل کردی، ہماری پہلے دن سے مانگ تھی کہ جس شخص پر الزام عائد ہوا ہے اسے معطل کیا جائے، کسی بھی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا کہ عوامی نمائندے پر سنگین الزام لگے اور وہ عہدہ نہ چھوڑے۔
انہوں نے ثبوت سوشل میڈیا پر لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صلح کی آفرز ہوئیں اور لوگوں نے کہا آپ کی شادی ہو چکی ہے اب آرام سے بیٹھ جائیں، آپ جس جس کو مینج کرسکتے ہیں یا فون کروا سکتے ہیں کروائیں، لیکن میں اس کیس کو آخری حد تک لے کر جاؤں گی، اگر مجھے قانون سے انصاف نہ ملا تو میں تمام ثبوت عوام کے سامنے سوشل میڈیا پر رکھ دوں گی، پھر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے لیکن میں پیچھے نہیں ہٹوں گی، میں پاکستان کی تمام لڑکیوں کی ترجمانی کر رہی ہوں، میں اب ثاقب چڈھر کے خلاف آرام سے نہیں بیٹھو گی اور ہر فورم پر جاؤں گی۔
اس موقع پر اداکارہ کے وکیل نے بھی تفتیش میں اچانک تبدیلی پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے علم میں لائے بغیر تفتیش تبدیل کی گئی، حالانکہ ہم نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی تھی، گزشتہ سماعت پر این سی سی آئی اے کے افسر نے عدالت میں کہا تھا کہ انہیں ثاقب چڈھر کی گرفتاری درکار ہے، لیکن آج اچانک بیان کا تبدیل ہونا باعثِ حیرت ہے، ہم این سی سی آئی اے کی اس رپورٹ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert