مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے بری خبر ، مرغی اور انڈے مزید مہنگے

لاہور(قدرت روزنامہ)مہنگائی کے مسلسل دباؤ نے عام شہریوں کے لیے سستی پروٹین کا تصور بھی مشکل بنا دیا ہے ، مرغی اور انڈوں کی قیمتیں ایک بار پھر سرکاری نرخوں سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔
سرکاری نرخنامے میں زندہ برائلر کی قیمت 333 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں یہی مرغی 399 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے یعنی صارفین کو سرکاری قیمت کے مقابلے میں فی کلو نمایاں اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
صرف زندہ مرغی ہی نہیں بلکہ برائلر گوشت کی قیمت میں بھی واضح فرق سامنے آیا ہے ، سرکاری نرخنامے کے مطابق برائلر گوشت 483 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بازار میں یہ 550 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔
یوں مرغی خریدنے والے شہریوں کو سرکاری نرخ کے مقابلے میں بازار میں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے، خاص طور پر محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ فرق روزمرہ اخراجات میں مزید دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔
انڈے بھی مہنگے
دوسری جانب فارمی انڈوں کی قیمت بھی سرکاری نرخ سے تجاوز کرگئی ہے، سرکاری ریٹ لسٹ میں انڈوں کی قیمت 241 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہی انڈے 260 روپے فی درجن تک فروخت کیے جارہے ہیں۔
مرغی، گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں یہ فرق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہری پہلے ہی مہنگائی کے باعث اشیائے ضروریہ کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
صارفین کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب سرکاری نرخ مقرر کیے جاچکے ہیں تو بازار میں مرغی اور انڈے ان قیمتوں سے زیادہ پر کیوں فروخت ہورہے ہیں۔
اگر سرکاری اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں یہی فرق برقرار رہا تو اس کا براہِ راست اثر صارفین کے ماہانہ بجٹ پر پڑ سکتا ہے ، بالخصوص وہ خاندان جو پروٹین کے لیے مرغی اور انڈوں کو نسبتاً سستا متبادل سمجھتے ہیں، انہیں مزید اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
