پبلک سروس کمیشن کے تحت تحصیلداروں کی بھرتی میں تاخیری حربے قابلِ تشویش ‘ بلوچستان حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے اور انٹرویوز کے مرحلے میں رکاوٹیں حائل کر رہی ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
حکومت میرٹ پامال کرنے کے ناروا اقدامات سے گریز کرے، کنٹریکٹ اور ایڈہاک پالیسی کسی صورت قبول نہیں: پشتونخوامیپ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں صوبے میں پبلک سروس کمیشن کے تحت تحصیلداروں کی بھرتی کے عمل کی روک تھام، امیدواروں اور نوجوانوں میں شدید تحفظات پر سخت تشویش کا اظہا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت میرٹ پائمال کرنے کے ناروا اقدامات سے گریز کرے اور حقیقی کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز کے مرحلے کو مکمل کرکے حقدارامیدواروں کی میرٹ کے تحت تعیناتی یقینی بنائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عرصہ دراز سے ہزاروں آسامیاں صوبے میں تعیناتی کے منتظر ہیں لیکن حکومت ان آسامیوں کو میرٹ کے مطابق پُر کرنے، تعلیم یافتہ، قابل، باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار دینے میں مسلسل رکاوٹیں حائل کررہی ہے۔ کافی عرصہ پبلک سروس کمیشن کو بغیر چیئرمین کے چلایا جاتا رہا اور اب جب ادارے کا سربراہ قائم کیا گیا تو مختلف محکموں کے ہزاروں آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ٹیسٹ انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوا تو حکومت روڑے اٹکانے لگی۔ تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے تقریباً 24ہزار امیدواروں نے ٹیسٹ دیئے اور ان میں سے تقریباً1200کے قریب امیدواروں نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی لیکن طویل مدت سے ان کے انٹرویوز کو شیڈول نہیں کیا جارہا ہے جوامیدواروں میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح پبلک سروس کمیشن کا ادارہ جو کہ بیروزگار نوجوانوں کی آخری امید ہے اسے کسی طرح مفلوج کرنا، ادارے کے ٹیسٹ انٹرویوز، آسامیوں کو پُر کرنے میں خلل ڈالنے کا مقصد دراصل پبلک سروس کمیشن سے یہی اختیارات لیکر دوبارہ محکموں کے ذریعے کنٹریکٹ، ایڈہاک پالیسی کے تحت بھرتی کرنا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیاہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی میرٹ پر یقین رکھتی ہے اور پبلک سروس کمیشن سے بھی یہ امید رکھتی ہے کہ وہ اپنے ادارے کی ساکھ کو قائم رکھنے اور میرٹ کے مطابق جلد از جلد تمام آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ ایک جانب بیروزگاری میں کمی آسکے اور دوسری جانب سے بیروزگارنوجوانوں، امیدواروں کی تحفظات کا خاتمہ ہوسکے۔
