برطانیہ اور فرانس سمیت 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی عائد کردی

برطانیہ (قدرت روزنامہ)برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت دنیا کے 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے یا ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان ممالک کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘۔

بیان کے مطابق کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ نے بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی ان بستیوں کے ساتھ تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے یا یورپی پابندیوں کی حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دار العوام میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا پر تجارتی پابندی کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی پر محض ’آواز اٹھانے‘ تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ اب اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مخالفت میں ’عملی اقدام‘ کا وقت آ گیا ہے۔

ایڈ ملی بینڈ کا مزید کہنا تھا کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور برطانیہ سمجھتا ہے کہ وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اعلان کیا کہ فرانس دیگر 11 ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کے ساتھ اپنی تجارت ختم کرنے جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’مغربی کنارے کی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے، جہاں بستیوں میں تیزی سے توسیع اور انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے‘۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کاکہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نفاذ کا طریقہ کار اور وقت ابھی طے ہونا باقی ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق امکان ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان 6 ارب پاؤنڈز (8.12 ارب ڈالر) کی سالانہ دوطرفہ تجارت پر اس پابندی کا اثر معمول ہی رہے گا کیونکہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ مغربی کنارے کی بستیوں اور اسرائیل کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات کے درمیان تفریق کس طرح کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert