زرداری نے لندن میں قیام مختصر کیوں کیا؟ وطن واپسی کی بڑی وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)صدر مملکت آصف علی زرداری آج برطانیہ سے وطن واپس پہنچیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر زرداری کی وطن واپسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں ملکی سیاسی صورتحال، حکومت اور اتحادی جماعتوں کے معاملات سمیت نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث بھی زیرغور آنے کا امکان ہے۔
صدر زرداری کا حالیہ یورپی دورہ محض برطانیہ تک محدود نہیں رہا۔ وہ پہلے آسٹریا میں تقریباً پانچ روز قیام کے بعد یکم ستمبر کو ویانا سے لندن پہنچے۔ برطانیہ آمد کے موقع پر ان کے ہمراہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی تھے۔
آسٹریا میں پانچ روز قیام
دستیاب اطلاعات کے مطابق صدر زرداری نے لندن روانگی سے قبل آسٹریا میں پانچ روز گزارے۔ یہ دورہ نجی نوعیت کا قرار دیا گیا، تاہم قیام کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔
بعد ازاں لندن میں بھی صدر زرداری کی سرگرمیوں کو سرکاری دورے کے بجائے نجی نوعیت کا قرار دیا گیا۔ صدر کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے بھی ڈان سے گفتگو میں کہا کہ یہ نجی دورہ تھا اور انہیں صدر کے نجی دوروں کی تفصیلات معلوم نہیں ہوتیں۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے بھی کہا کہ صدر لندن طبی معائنے کے لیے گئے تھے۔
لندن میں اہم سیاسی ملاقاتیں
اگرچہ دورے کو نجی اور طبی نوعیت کا قرار دیا گیا، لیکن لندن میں صدر زرداری کی سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں نے اسے سیاسی طور پر بھی اہم بنا دیا۔
صدر زرداری کی ملاقات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں نے بھی لندن میں صدر سے ملاقاتیں کیں۔ ڈان کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی صدر زرداری کے ساتھ موجود رہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدر زرداری کی لندن میں موجودگی ایسے وقت میں ہوئی جب ملک میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث تیز ہوگئی تھی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے ملک کو 12 سے 15 صوبوں میں تقسیم کرنے اور انتظامی ڈھانچے پر قومی سیاسی مکالمے کی تجویز کے بعد معاملہ مزید اہم ہوگیا۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے قیام کی مخالفت کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ایسے کسی اقدام کے لیے آئینی طریقہ کار، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی حمایت ضروری ہے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد اور زرداری کا موقف
صدر زرداری کی لندن میں سیاسی ملاقاتوں کے بعد سندھ اسمبلی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں قرارداد کی منظوری بھی اہم پیش رفت قرار دی گئی۔
ڈان کے مطابق ایک پیپلز پارٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے حکومت کو واضح پیغام دیا کہ وہ اور سندھ میں حکمران ان کی جماعت نئے صوبوں کے قیام کے منصوبے کو قبول نہیں کرتے۔ تاہم صدر کے دورے کو سرکاری طور پر سیاسی مشاورت قرار نہیں دیا گیا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت کو آئینی ترامیم سمیت بعض اہم معاملات پر پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی بھی آئینی اقدام کے لیے سیاسی اتفاق رائے انتہائی اہم ہوگا۔
لندن کا قیام پہلے ہی مختصر کردیا گیا
صدر زرداری نے ابتدائی منصوبے کے مطابق لندن میں مزید تین سے چار روز قیام کرنا تھا، تاہم انہوں نے اپنا قیام مختصر کرکے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وطن واپسی کے فیصلے کی ایک بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال اور نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کے قیام پر بڑھتی ہوئی بحث ہے۔
صدر زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری لندن میں مزید قیام کریں گے اور صدر کے ہمراہ پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں کی واپسی تقریباً ایک ہفتے بعد متوقع ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات، اہم سیاسی مشاورت متوقع
صدر زرداری کی وطن واپسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، حکومتی امور اور اتحادی معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا۔
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوچکے ہیں۔
پیپلز پارٹی پہلے جنوبی پنجاب اور بہاولپور جیسے نئے صوبوں کے قیام کے تصور کی اصولی طور پر مخالفت نہیں کرتی تھی، تاہم چاروں موجودہ صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بحث کے بعد پارٹی نے اپنا موقف سخت کردیا ہے۔
زرداری کے دورے نے کئی سوالات چھوڑ دیے
صدر زرداری کے یورپی دورے کو سرکاری طور پر نجی اور طبی نوعیت کا قرار دیا گیا، تاہم آسٹریا میں قیام، لندن میں سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں اور پھر وطن واپسی کے فیصلے نے دورے کو سیاسی طور پر بھی اہم بنا دیا ہے۔
اب صدر کی پاکستان واپسی کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ لندن میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورت کے اثرات ملکی سیاست پر کس حد تک مرتب ہوتے ہیں، بالخصوص نئے صوبوں کے قیام، اتحادی حکومت کے مستقبل اور پیپلز پارٹی کے وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے۔
یوں صدر زرداری کا یہ یورپی دورہ بظاہر نجی و طبی نوعیت کا تھا، مگر اس کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور ملک میں بیک وقت جاری سیاسی بحث نے اسے سیاسی اہمیت بھی دے دی ہے
