’میں انہیں بہت یاد کرتا ہوں‘، وسیم اکرم بھی عمران خان کی صحت پر فکرمند

کراچی (قدرت روزنامہ)سابق پاکستانی کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دوست اور سابق کپتان کو بہت یاد کرتے ہیں اور ان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔
وسیم اکرم نے یہ بات ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی جس میں انہوں نے عمران خان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق، کرکٹ کے ابتدائی دور میں سابق کپتان کی جانب سے ملنے والی رہنمائی اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔
وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ عمران خان ان کے دوست ہیں اور وہ انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’’میں نے تین سال سے ان سے بات نہیں کی، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ سیاسی طور پر ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘‘
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ عدالت کا معاملہ اپنی جگہ ہے تاہم عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔
وسیم اکرم کے مطابق وہ عمران خان کو صرف ایک سیاسی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دوست کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں اور ان کی تشویش بھی ایک دوست کی حیثیت سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’وہ سزا یافتہ ہیں یا نہیں، جیل میں ہیں یا نہیں، ہمیں ان کی صحت کو محفوظ بنانا ہوگا۔‘‘
وسیم اکرم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ جاننا مشکل ہے کہ کس بات پر یقین کیا جائے، کیونکہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی صحت ٹھیک ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔
وسیم اکرم نے عمران خان کے بیٹوں کے ایک انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران نشر کیا گیا تھا۔
عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے انٹرویو میں اپنے والد کی جیل میں صحت اور زندگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اس انٹرویو کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسکائی اسپورٹس سے شکایت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں انٹرویو کی ٹیلی کاسٹ میں مختصر تاخیر ہوئی۔ اس معاملے پر پاکستان کی ٹیم کے میدان میں نہ اترنے کی صورت میں احتجاج کا امکان بھی زیرِ بحث آیا، تاہم بعد میں انٹرویو نشر ہوا اور پاکستان کی ٹیم مقررہ وقت پر میدان میں اتری۔
وسیم اکرم نے کہا کہ اس انٹرویو کے بعد پاکستان میں خاصا شور اٹھا اور پھر انہوں نے حکومت کی جانب سے عمران خان سے ملاقاتوں اور فون کالز کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات بھی پڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ جاننا مشکل ہے کہ کس بات پر یقین کیا جائے۔
یاد رہے وسیم اکرم اور عمران خان کا تعلق کرکٹ کے میدان سے کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی برسوں میں وسیم اکرم نے عمران خان کی قیادت میں کرکٹ کھیلی اور سابق کپتان کو اپنا مینٹور قرار دیتے رہے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کی صورتحال کے حوالے سے کرکٹ کی دنیا سے متعدد آوازیں سامنے آئی ہیں۔ 22 سابق کپتانوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے نام کھلے خط میں عمران خان کے بنیادی وقار اور ضروریات کا خیال رکھنے، ان کے ذاتی ڈاکٹر اور اہلخانہ تک رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز نے بھی ان خدشات کی حمایت کی، جبکہ سابق ویسٹ انڈین بیٹر برائن لارا نے عمران خان کو کرکٹ کا لیجنڈ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے بنیادی انسانی ہمدردی کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان میں بھی سابق کرکٹرز کی جانب سے عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات پر آواز اٹھائی گئی۔ جاوید میانداد نے جذباتی اپیل میں عمران خان کی رہائی اور حکومت و سابق وزیراعظم کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد معین خان اور رمیز راجا کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
