بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال، لیکن عوام امن، روزگار اور دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں: مولانا ہدایت الرحمن
بدامنی اور معاشی بدحالی نے عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں، عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے: امیر جماعت اسلامی بلوچستان

وسائل پر پہلا حق مقامی عوام کا ہے، جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پرامن اور آئینی جدوجہد کا دائرہ وسیع کریں گے: جماعت اسلامی کا انتباہ
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبے کے عوام امن، روزگار اور نانِ شبینہ کے محتاج ہیں۔ حکمرانوں اور متعلقہ اداروں نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں صوبائی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ظلم، جبر، لاقانونیت اور بدامنی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی عوام کے حقوق کے حصول تک پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔اجلاس میں صوبائی نائب امیر و پارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی، صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امرا زاہد اختر بلوچ، بشیر احمد ماندائی، پروفیسر مولانا محمد ایوب منصور، مولانا محمد عارف دمڑ، کسان بورڈ بلوچستان کے صدر لعل بخش کھوسہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹریز پروفیسر سلطان محمد کاکڑ، سلطان محمد محنتی، قاری امداد اللہ، محمد یوسف منگریو، امیر جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند، میڈیا انچارج عبدالولی خان شاکر، روح اللہ سالار، احمد شاہ غازی اور دیگر صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ پہیہ جام ہڑتال، گورنر ہاس کے سامنے عوامی دھرنے اور شٹر ڈان ہڑتال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبائی اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور مختلف فیصلے کیے گئے۔صوبائی ذمہ داران نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مسلسل مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔ بدامنی اور عدم تحفظ کے باعث شہری اپنے ہی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، جبکہ شاہراہوں اور سرحدی راستوں کی بندش نے صوبے کی معیشت اور معاشرت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کاروبار، تجارت، روزگار اور عام شہریوں کی نقل و حرکت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔مقررین نے کہا کہ حکمرانوں کی غفلت اور اداروں کی ناقص کارکردگی کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو خیرات نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق، امن، روزگار، عزت اور محفوظ راستے چاہیے۔ صوبے کے وسائل پر یہاں کے عوام کا پہلا حق ہے، لیکن وسائل کی فراوانی کے باوجود بلوچستان کے عوام غربت، پسماندگی اور محرومی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان بے روزگاری سے پریشان، تاجر کاروباری مشکلات میں مبتلا اور عام شہری امن و امان کی خراب صورتحال سے دوچار ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو عوام کو تحفظ فراہم کرنے، شاہراہوں کو محفوظ بنانے، سرحدی راستے کھولنے، تجارت بحال کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی وصولیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ عوام کو سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پہیہ جام، دھرنے اور شٹر ڈان ہڑتال عوامی مسائل اور حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حصہ تھے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے احتجاج کے دوران جس اتحاد، نظم و ضبط اور بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے بیدار ہوچکے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ امن، روزگار، تعلیم، صحت، تجارت، سرحدی راستوں کی بحالی، شاہراہوں کے تحفظ اور کرپشن کے خاتمے سمیت عوام کے تمام جائز مسائل کے حل کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔انہوں نے صوبائی ذمہ داران اور کارکنوں پر زور دیا کہ عوام سے رابطے مزید مضبوط کیے جائیں، اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر تنظیمی سرگرمیوں کو فعال بنایا جائے اور عوامی مسائل کو منظم انداز میں اجاگر کیا جائے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ وسائل سے مالا مال صوبے کے عوام کو محرومی، بدامنی اور غربت سے نجات دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے مسائل حل نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر پرامن اور آئینی جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔
