آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ ہونا اور سندھ، پنجاب سے ترسیل پر پابندی غریب عوام پر ظلم کی انتہا ہے: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
فارم 47 کی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام اور غیر سنجیدہ ہے، گندم کی قلت سے دو وقت کی روٹی ملنا محال ہو گیا

حکومت فلور ملز کو سستی گندم فراہم کرے اور آٹے کی بلا روک ٹوک ترسیل یقینی بنائے: صوبائی پریس ریلیز
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ آنااور پنجاب و سندھ سے بلوچستان کو آٹے کی ترسیل نہ ہونے پر سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور فلور ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں مزید کمی نہ کرنے کا بیان انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک طرف غریب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب مسلط فارم 47کی حکومت اور محکمہ خوراک عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب سے بلوچستان گندم لانے پر پابندی عائد کرنا قابلِ افسوس ہے۔ اسی طرح سندھ سے گندم کی ترسیل میں مشکلات کے باعث گندم کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جس کا براہِ راست اثر آٹے کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فلور ملز کو سستے داموں گندم کی عدم فراہمی، مارکیٹ میں گندم کی قلت اور ذخیرہ نہ ہونے کے باعث آٹے کی قیمتیں کم نہیں ہو رہیں۔اس وقت مارکیٹ میں آٹے کے نرخ عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریبا 3000 روپے، 50 کلو کا تھیلا تقریبا 7500 روپے، جبکہ 100 کلو آٹے کی بوری تقریبا15000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان قیمتوں میں اضافے نے خصوصا غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ گندم کی ترسیل میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کرے اور پنجاب و سندھ سے بلوچستان کو گندم کی بجائے براہِ راست آٹے کی ترسیل شروع کی جائے، تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ حکومت فلور ملز کو مناسب نرخوں پر گندم فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سستا آٹا حقیقی معنوں میں غریب عوام تک پہنچے۔کیونکہ عوام پہلے ہی شدید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں ایسے میں بنیادی خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں فوری کمی لاکر پنجاب اور سندھ سے بلوچستان تک آٹے کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے اور غریب عوام کو مقررہ سرکاری نرخوں پر سستا اور معیاری آٹا فراہم کیاجائے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شاہراہوں کی بندش، بدامنی اور لوٹ کھسوٹ کی صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
