پنجاب پولیس نے اغواء کرنے کی کوشش کی پھر یہاں سڑک پر پھینک گئے

ایک صوبے کے وزیراعلی کو اغواء کرنے کی کوشش کی، یہ چھوٹی بات نہیں ان پر ابھی پریشر آئے گا، وزیراعلی سہیل آفریدی کا الزام


لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلی سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے اغواء کرنے کی کوشش کی، پھر یہاں مجھے سڑک کے بیچ پھینک گئے۔ پی ٹی آئی ایکس کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلی کو اغواء کرنے کی کوشش کی، اور پھر یہاں سڑک کے بیچ پھینک کر چلے گئے، یہ چھوٹی بات نہیں ان پر اب پریشر آئے گا۔
ہمیں بے یارومدگار چھوڑ دیا گیا، 15منٹ تک ہمارے آس پاس کوئی سکیورٹی نہیں تھی، ہمیں یہاں چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟ جعلی وزیراعلیٰ کا بیان ہے کہ مجھے انڈیا سے خطرہ نہیں صوبوں سے خطرہ ہے، آج جو کچھ ہوا یہ اس بیان کی کڑی ہے۔ یاد رہے اس سے قبل مسجد شہدا چوک میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو چھڑوانے کیلئے خود پولیس کے ڈالے میں بیٹھ گئے تھے، سہیل آفریدی نے پولیس کو کہا تھا کہ جب تک میرے کارکنان کو نہیں چھوڑیں گے تب تک گاڑی سے نہیں اتروں گا۔

ایکس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اغوء کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور گارڈز کے ساتھ ویڈیو بنوا رہے ہیں اور اغوا ہوگئے؟ توبہ شرم کرو، ہوش کرو، کیمرہ مین گارڈز کے ساتھ پولیس وین میں ہنستے کھیلتے اغوا کے بعد رہائی؟ کہا تھا نا پنجاب ولوں جواب اے! عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ایک اور ڈرامہ بازی ملاحظہ کریں،خود جا کر پولیس وین میں بیٹھ گئے،پولیس والے اترنے کو کہہ رہے ہیں، اپنے گارڈذ کو اپنا ڈرامہ بلاک کرنے پر جھاڑ کر پرے کردیا، فرمائشی اور سستی ایکٹینگ ، ان کو عزت دے رہے ہیں لیکن یہ اس کے لائق ہی نہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو چھڑوانے کیلئے خود پولیس کے ڈالے میں بیٹھ گئے تھے، سہیل آفریدی نے پولیس کو کہا تھا کہ جب تک میرے کارکنان کو نہیں چھوڑیں گے تب تک گاڑی سے نہیں اتروں گا۔ اسی طرح اردوپوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء شوکت بسرا نے بتایا کہ پولیس نے لاہور کی قیادت کو حراست میں لے رکھا ہے، ہمارے سینکڑوں کو لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، ہم لبرٹی کی طرف جا رہے تھے کہ پولیس نے ناکے لگا کر ہمارے لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے،
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ جب تک ہماری قیادت اور کارکنان کو رہا نہیں کیا جائے گا ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔
واضح رہے یہاں لاپور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کے دیرینہ شہید کارکن اشتیاق احمد کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور پنجاب پولیس کی کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اشتیاق احمد کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی، اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے اہلخانہ کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایک اشتیاق احمد کو گرم تیل کی کڑاہی میں پھینکنا انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول اقدام ہے۔

WhatsApp
Get Alert