سعودی پائپ لائن بند ہونے سے یورپ کو تیل کی سپلائی معطل، خریداروں کی دوڑیں

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)عراقی ملیشیا کی جانب سے مبینہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں بحیرہ احمر کی جانب جانے والی مرکزی تیل پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد سعودی عرب نے یورپ کو خام تیل کی ترسیل میں بڑی کمی کر دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے تجارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یورپ کو تیل کی اس اچانک معطلی سے یورپی منڈیوں میں خام تیل کی کارگو قیمتیں 122 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ پولینڈ سمیت کئی اہم خریدار ممالک نے تیل کی فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے دیگر ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے۔

سعودی عرب نے ان حملوں کا ملبہ عراقی ملیشیا پر ڈالتے ہوئے جمعہ کو اپنی ایسٹ ویسٹ صحرائی ائل پائپ لائن کی سرگرمیاں بند کر دی تھیں، جس کے بعد بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ معطل اور ستمبر کی کچھ شپمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پائپ لائن کی بندش کے بعد سعودی عرب آبنائے ہرمز کے ذریعے خفیہ طریقے سے تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے متحدہ عرب امارات اور عراق اس وقت کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران راس تنورہ بندرگاہ سے 22 ملین بیرل تیل 12 جہازوں پر لوڈ کیا گیا تھا، جو کہ عام ہفتہ وار اوسط سے دوگنا ہے۔ تاہم، سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے سپلائی میں کمی کے بعد پولینڈ کی سب سے بڑی آئل کمپنی اورلین نے شمالی سمندر، امریکا، قازقستان اور الجزائر سے خام تیل خریدنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں۔

اورلین کمپنی کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ خریدے جانے والے حجم کو ایڈجسٹ اور بہتر بنانا اورلین گروپ کی معمول کی کارروائیوں کا حصہ ہے تاکہ موجودہ پیداواری ضروریات اور منڈی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کو سنبھالا جا سکے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس وقت اورلین کی تمام ریفائنریوں کو خام مال کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

دوسری طرف، بین الاقوامی منڈی میں اس انقطاع کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں جس سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp
Get Alert