شہریوں کے کاغذات کی تصدیق میں غیرقانونی طور پر 12 ارب روپے بٹورے جانے کا انکشاف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) شہریوں کے کاغذات کی تصدیق میں غیرقانونی طور پر 12 ارب روپے اینٹھے جانے کا انکشاف ہوا ہے، شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیرقانونی چینل استعمال کرنے کے 8 لاکھ روپے لیے جاتے رہے۔ جیونیوز کے سینئر صحافی اعزاز سید کی ایکس پر شیئر کردہ خبر کے مطابق جیو نیوز کو موصول ہونے والی وزارت خارجہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کے لیے ایک سال کے دوران شہریوں سے 12 ارب روپے غیر قانونی طور پر بٹورے گئے۔
رپورٹ میں عوام سے پیسے بٹورنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیرقانونی چینل استعمال کرنے کے 8 لاکھ روپے وصول کئے جاتے رہے۔
اسی طرح مجموعی طور پر ایک سال میں 12 ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر اکٹھی کی گئی۔
🚨 BREAKING
A major scandal has surfaced in Pakistan’s Ministry of Foreign Affairs over the attestation of citizens’ documents.
An internal inquiry report obtained by Geo News alleges that Rs12 billion was illegally collected from citizens in one year through unlawful channels… pic.twitter.com/QtLAH88s3I
— Azaz Syed (@AzazSyed) September 16, 2026
رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آڈٹ اینڈ انسپیکشن ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں قائم 4 رکنی کمیٹی نے عوام سے رقم وصول کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ایک “مافیا” کی نشاندہی کی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شہریوں سے غیر قانونی ذرائع سے دستاویزات کی تصدیق کرانے کے لیے مبینہ طور پر 8 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔ رپورٹ میں مبینہ نیٹ ورک سے منسلک اہلکاروں کے نام اور ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ کے دفتر میں کام کرنے والا ایک اہلکار بھی رپورٹ میں نامزد افراد میں شامل ہے۔ وزارت خارجہ کے مختلف شعبوں کے ڈی جیز، ایک سابق ایڈیشنل سیکریٹری اور سابق سفارت کاروں کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک نجی کوریئر کمپنی کے مبینہ طور پر وزارت خارجہ کے ایک افسر سے روابط تھے۔ رپورٹ جولائی میں سیکریٹری خارجہ کے دفتر کو بھجوائی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق اسے قومی احتساب بیورو (نیب) یا کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو نہیں بھیجا گیا۔ کمیٹی کی سفارشات کے باوجود معاملے سے مبینہ طور پر منسلک بعض افسران کو بعد ازاں بیرون ملک تعینات کر دیا گیا۔ جیو نیوز نے اس معاملے پرمئوقف لینے کیلئے ترجمان وزارت خارجہ کو سوالنامہ بھیجا لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
