تمام اندازے غلط ، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

کراچی (قدرت روزنامہ)عالمی مالیاتی منڈی میں سونے کی قیمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے اور قیمتی دھات کی قیمت ایک ہی سیشن میں 2 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 4 ہزار 360 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ سونے کی قیمت گزشتہ روز تقریباً چھ ہفتوں کی کم ترین سطح تک گرنے کے بعد تیزی سے واپس آئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعرات 17 ستمبر کو اسپاٹ گولڈ 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,360.36 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ دسمبر کیلئے امریکی گولڈ فیوچرز 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,399.70 ڈالر فی اونس پر بند ہوئے۔
سونے کی قیمت میں یہ تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی ڈالر اور امریکی بانڈز کی شرح منافع میں کمی ہوئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہونے سے مہنگائی کے حوالے سے فوری دباؤ میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں امریکی ٹریژری ییلڈز بھی نیچے آئیں اور سونے کو سہارا ملا۔
ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی بھی سونے کی طلب کیلئے اہم عنصر رہی۔ چونکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت امریکی ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے ڈالر کمزور ہونے کی صورت میں دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کیلئے سونا نسبتاً سستا ہوجاتا ہے، جس سے طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
سونے کی اس تیزی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو نے رواں ہفتے تین سال سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کو عمومی طور پر سونے کیلئے دباؤ کا باعث سمجھا جاتا ہے کیونکہ سونا باقاعدہ منافع یا سود ادا نہیں کرتا، تاہم اس بار مارکیٹ نے شرح سود میں اضافے کے بعد مختلف انداز میں ردعمل دیا۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاروں نے فیڈ کے فیصلے سے پہلے بنائی گئی اپنی پوزیشنز پر نظرثانی کی، جبکہ تیل، ڈالر اور ٹریژری ییلڈز میں کمی نے سونے کی قیمت کو دوبارہ اوپر آنے میں مدد دی۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق شرح سود میں اضافے کی توقع پہلے ہی مارکیٹ میں کافی حد تک شامل ہوچکی تھی، اس لیے فیصلے کے بعد بعض سرمایہ کاروں نے اپنی پوزیشنز ایڈجسٹ کیں۔
جمعہ 18 ستمبر کو ایشیائی کاروبار کے دوران بھی سونا تقریباً 4,350 ڈالر فی اونس کے قریب رہا ابتدائی کاروبار میں اسپاٹ گولڈ میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مارکیٹ میں امریکی مالیاتی پالیسی خام تیل کی قیمتوں اور عالمی جغرافیائی صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی آئندہ سمت پر امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی شرح سود پالیسی، ڈالر کی قدر امریکی بانڈ ییلڈز خام تیل کی قیمتیں اور عالمی کشیدگی اہم اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ فیڈ کی جانب سے مزید شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیے جانے کے باعث سونے کیلئے کچھ دباؤ برقرار رہنے کا امکان بھی مارکیٹ تجزیوں میں سامنے آیا ہے۔
یوں عالمی منڈی میں سونے کی حالیہ تیزی کو ایک اہم قلیل مدتی ردعمل قرار دیا جارہا ہے، جس میں کمزور ڈالر تیل کی قیمتوں میں کمی اور ٹریژری ییلڈز میں نرمی نے اہم کردار ادا کیا، تاہم آئندہ دنوں میں امریکی شرح سود اور عالمی معاشی صورتحال سونے کی قیمت کیلئے فیصلہ کن عوامل رہیں گے

WhatsApp
Get Alert