میں ان کا ڈسا ہوا ہوں، ایک شرط پر پارٹی میں واپس جاسکتا ہوں اگر ناانصافیوں کا ازالہ اور ندامت کا اظہار کریں
پی ٹی آئی کو بچانا ہے تو مفاد پرستوں سے جان چھڑانا ہوگی، ان کا محور صرف ذاتی مفادات ہیں، مفاد پرستوں سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں رکھنے والے کس دنیا میں رہتے ہیں؟ رکن اسمبلی شیر افضل مروت کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بچانا ہے تو مفاد پرست عناصر سے جان چھڑانا ہوگی، مفاد پرستوں کا محور صرف ذاتی مفادات ہیں، مفاد پرستوں سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کرنے والے کس دنیا میں رہتے ہیں؟ میں ان کا ڈسا ہوا ہوں، ایک شرط پر واپس جاسکتا ہوں اگر یہ ندامت کا اظہار کریں۔
انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو مفاد پرست عناصر سے جان چھڑانا ہوگی، جن کی سیاست کا محور ہمیشہ ذاتی مفادات اور پیسہ رہا ہے اور جن کا ماضی مشکل وقت میں بھاگ جانے سے عبارت ہے۔ ایسے لوگوں سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کرنے والے آخر کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟
شیر افضل خان مروت نے کہا کہ پارٹی اس مقام تک کبھی نہیں پہنچتی اگر ان گنڈے انڈوں اور نالائقوں سے جان چھڑاتے، ایسے لوگ جو کچھ نہیں کرسکتے، یہ ہر وقت پیسوں اور عہدوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، ان لوگوں سے امید رکھنا کہ یہ تبدیلی لائیں گے یہ کس دنیا میں رہنے والے لوگ ہیں؟
شیر افضل خان مرورت کا کہنا ہے کہ میں ان کا ڈسا ہوا ہوں، میرے ساتھ بڑی زیادتیاں بلکہ کھلی عداوت کی ہے، انہوں نے میری شہرت کو نقصان پہنچایا، دو سال گالم گلوچ کی، میرا قصور یہ تھا کہ ورکرز میں مجھے قبولیت اور مقبولیت ملی، یہ ان سے ہضم نہیں ہورہا تھا، جبکہ میرے تمام کارنامے اس پارٹی کو اوپر اٹھانے کیلئے تھے۔
لیکن ان کو برداشت نہیں تھے۔ اس لئے میں دوبارہ نہیں جاسکتا ، یہ ورکرز کو بتاتے ہم غدار ہیں، پھر غداروں پر کس منہ سے اعتبار کرتا ہے؟ ایک شرط میں واپس جاسکتا ہوں، اگر ندامت کا اظہار کریں۔ یہ پارٹی کی بزدلی تھی کہ سوشل میڈیا اتنا بااثر ہوگیا، اور سوشل میڈیا ٹرینڈ سیٹ کرنے لگ گیا کہ آئندہ کیا ہوگا۔
شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں پارٹی کے لیے ہم نے جو قربانیاں دیں، وہ پوری قوم کے سامنے ہیں۔
مگر افسوس کہ ان قربانیوں کے صلے میں ہمیں عزت دینے کے بجائے گالیاں اور دشنام طرازی کا سامنا کرنا پڑا۔ میری پارٹی کے لیے خدمات اور جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ میں اپنی کارکردگی بار بار دہرانا نہیں چاہتا، البتہ میرے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے تو میں آج بھی پارٹی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔
