بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی سے فرار کے بعد مدارس کو نوٹسز کا اجراء حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، : مولانا عبدالواسع

دینی اداروں کے آئینی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: صوبائی امیر جے یو آئی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کوئٹہ انتظامیہ کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز کے اجراء پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مضحکہ خیز اقدامات اور غیر ضروری سرکاری نوٹسز کے ذریعے مدارس اور ان سے وابستہ افراد کو ہرگز مرعوب یا ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس ملک بھر میں دینی و تعلیمی خدمات کا اہم فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور انہیں دباؤ میں لانے کی کوششیں سراسر آئین اور قانون کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ اپنے ایک بیان میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مقامی اور ماتحت افسران کو آلہ کار بنا کر مدارس کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کے عزائم سے جمعیت علماء اسلام بخوبی آگاہ ہے، جو رجسٹریشن کے حساس معاملے کو بلیک میلنگ اور دباؤ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں مدارس سے متعلق بل پیش کرنے سے راہِ فرار اختیار کرنے کے بعد اب انتظامی نوٹسز کا سہارا لے کر اداروں کو دباؤ میں لانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل میں رکاوٹ مدارس کی جانب سے نہیں بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں اور طرزِ عمل کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ دینی مدارس کے ساتھ غیر ضروری سرکاری کارروائیوں کے ذریعے امتیازی سلوک فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور ان کے جملہ معاملات کو قانون و آئین کے مطابق طے کیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام دینی مدارس کے حقوق، خودمختاری اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہر غیر آئینی اقدام کے خلاف تمام قانونی و آئینی فورمز پر آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ رجسٹریشن کے معاملے کو سنجیدگی اور باہمی مشاورت سے حل کریں اور غیر ضروری نوٹسز کا اجراء فی الفور روکا جائے۔

WhatsApp
Get Alert