دوا اصلی ہے یا نقلی؟ پہچان کا انتہائی آسان طریقہ جانیے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) آپ اصلی دوا خرید رہے ہیں یا نقلی پہنچان کا آسان طریقہ وفاقی وزیر صحت نے بتا دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے دوا کے اصلی یا جعلی ہونے کی پہچان کا آسان طریقہ بتا دیا ہے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ کریں گے۔ اس حوالے سے ڈریپ کو وسیع اختیارات دیے ہیں، 75 ہزار ادویات کا ڈیٹا ہمارے پاس ہے

انہوں نے کہا کہ جعلی دواؤں کی پہچان کا نظام اگلے ماہ سے کام کرنا شروع کر دے گا۔ موبائل ایپ اور بار کوڈ سے دوا کے جعلی یا اصل ہونے کا پتہ چل جائے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نومبر کے آخر میں جو بھی شخص دوا لینے جائے تو وہ اپنا موبائل ساتھ لے جائے۔ دوا کے لیبل یا شیشی پر موجود بار کوڈ کو اسکین کریں اگر دوا جعلی ہوگی تو سرخ نشان آ جائے گا۔

وفاقی وزیر نے صحت کے بجٹ میں غیر ملکی مدد صرف تین فیصد ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ویکسین کی مد میں مدد آ رہی ہے۔2030 تک ویکسین مکمل طور پر ہمیں خریدنا پڑے گی، اس پر 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی ابھی سے اس پر کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلو ویکسین کے 4 برانڈ تھے دو نے قیمت بڑھانے کی بات کی حکومت نے اجازت نہیں دی۔ اس پر ان دو برانڈز نے ویکسین کی درآمد نہیں کی۔ تاہم اس کے باوجود پاکستان میں فلو ویکسین کی کمی نہیں ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ چین نے 98 کروڑ سے اسپتال بنا کر پاکستان کو تحفہ دیا تھا، لیکن بے کار پڑے رہنے سے اس کی تمام مشینیں ناکارہ ہو رہی تھیں۔ اب اسے سرکاری اسپتال کی شکل دے دی ہے اور انڈس اسپتال نے اسے چلانے کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ 182 بیڈز کا اسپتال چلنا شروع ہو گیا ہے، جو اب بند نہیں ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert