’’ہم پولیس ملازم ہیں‘‘پولیس اہلکار کا بس کنڈکٹر کو کرایہ دینے سے انکار
ڈی پی او صاحب نے ہمارا کرایہ معاف کر رکھا ہے، ’’ہم تمہیں دیکھ لیں گے‘‘، بس ڈرائیور کی جانب سے بار بار کرایہ مانگنے پر پولیس اہلکار کی دھمکی، صحافی زعیم لغاری نے ویڈیو شیئر کردی

لاہور(قدرت روزنامہ)پولیس اہلکار کی جانب سے بس کا کرایہ ادا کرنے سے انکار اور مبینہ طور پر بس عملے کو دھمکیاں دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ پولیس اہلکار نے موٴقف اختیار کیا کہ ڈی پی او صاحب نے پولیس ملازمین کا کرایہ معاف کر رکھا ہے، اس لیے وہ بس کا کرایہ ادا کرنے کے پابند نہیں۔ صحافی زعیم لغاری نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایک پولیس اہلکار کو بس کنڈکٹر کے ساتھ کرائے کے معاملے پر بحث کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں پولیس اہلکار بس کا کرایہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ پولیس ملازم ہے اور ڈی پی او نے ان کا کرایہ معاف کر رکھا ہے۔ دوسری جانب بس ڈرائیور اور عملے کی جانب سے بار بار کرایہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، تاہم پولیس اہلکار اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے۔
ویڈیو میں پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر بس عملے کو دھمکی دیتے ہوئے یہ کہتے بھی سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔
پولیس اہلکار کا بس کنڈکٹر کو کرایہ دینے سے انکار، مؤقف ہے کہ ’’ڈی پی او صاحب نے ہمارا کرایہ معاف کر رکھا ہے، ہم پولیس ملازم ہیں۔‘‘ بس ڈرائیور کی جانب سے بار بار کرایہ مانگنے پر پولیس اہلکار کی دھمکی: ’’ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔ https://t.co/N9U6kXLhzt
— Zaeem leghari (@Zaeemlegharii) November 6, 2026
ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صارفین نے پولیس اہلکار کے مبینہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سرکاری ملازمت کسی شہری کو عوامی ٹرانسپورٹ میں مفت سفر کرنے اور عملے کو دھمکانے کا اختیار دیتی ہے؟ ادھر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر خواتین، بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو تشدد اور زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے پنجاب پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم کی ہدایت پر اس سلسلے میں خصوصی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں ہیڈ کانسٹیبل سے ڈی ایس پی رینک تک کے افسران و اہلکار شرکت کر رہے ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریننگ پنجاب را منیر ضیا نے جاری بیان میں بتایا کہ ریجنل ٹریننگ سنٹرز اور ضلعی پولیس لائنز میں جاری ورکشاپس کے دوران خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کے خلاف تشدد کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ اور جنسی و صنفی جرائم کی شناخت اور تفتیش سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پولیس افسران کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تمام آر پی اوز اپنے اپنے ریجنز میں تربیتی ورکشاپس کے انعقاد اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کی بھرپور شرکت یقینی بنا رہے ہیں جبکہ سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو مستند انسٹرکٹرز، عملی تربیتی سیشنز اور حاضری و کارکردگی کی موثرمانیٹرنگ کا نظام یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔را منیر ضیا نے کہا کہ تربیت کے دوران متاثرہ خواتین اور بچوں کی شناخت اور متعلقہ مقدمات کی حساس معلومات کو خفیہ رکھنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
