ہر 3 میں سے 1 درخواست مسترد! ان یورپی ممالک کا ویزا کیوں نہیں مل رہا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان سے یورپ کا سفر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے شینجن ویزا کا حصول ایک اہم مگر پیچیدہ مرحلہ ہوتا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں شینجن ممالک کو مجموعی طور پر ایک کروڑ سترہ لاکھ سے زائد ویزا درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے تقریباً پندرہ فیصد یعنی 14.8 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
اس رپورٹ نے ان ممالک کی نشاندہی کی ہے جہاں ویزا مسترد کیے جانے کی شرح سب سے زیادہ رہی اور یہ ان افراد کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے جو یورپ کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالٹا وہ ملک ہے جہاں شینجن ویزا کی سب سے زیادہ درخواستیں مسترد ہوئیں۔ اس کے بعد ایسٹونیا، بلجیم، سلووینیا، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک شامل ہیں جہاں ویزا منظور ہونے کے بجائے مسترد کیے جانے کا امکان زیادہ رہا۔
ان ممالک میں بعض اوقات ہر تین میں سے ایک درخواست کو مسترد کر دیا جاتا ہے، جو ویزا کے خواہشمندوں کے لیے ذہنی اور مالی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
فرانس اور جرمنی جیسے بڑے ممالک میں بھی مسترد کیے گئے ویزوں کی تعداد خاصی زیادہ رہی تاہم ان کی شرح نسبتاً معتدل رہی۔
جرمنی نے تو حال ہی میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اعتراضات کی پرانی روایت بحال کر دی ہے جس کے تحت جن درخواست دہندگان کے ویزے مسترد ہو جائیں، وہ اب اپیل یا دوبارہ درخواست نہیں دے سکتے۔
اس نئی سختی کے باعث بہت سے مسافر اب یورپ کے بجائے دیگر خطوں میں سیاحتی منصوبے بنا رہے ہیں۔
مزید یہ کہ بھارت کو بھی شینجن ویزا کی مد میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جہاں 1.65 لاکھ درخواستیں مسترد ہوئیں اور ویزا فیس کی مد میں 1.36 ارب بھارتی روپے ضائع ہوگئے کیونکہ یہ فیسیں ناقابل واپسی ہوتی ہیں۔
افریقی ملک نائیجیریا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا جہاں ویزا مسترد ہونے کی شرح 45.9 فیصد تک جا پہنچی۔
پاکستانی شہریوں کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت اہم ہے خاص طور پر ان افراد کے لیے جو تعلیم، تجارت یا سیاحت کی غرض سے یورپ جانے کے خواہشمند ہیں۔
شینجن ممالک میں ویزا پالیسیوں کی سختی اور مسترد کیے جانے کی بلند شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی مسافروں کو محتاط منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ 2025 میں پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا کے 32 سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں بغیر ویزا کے داخلہ ممکن ہے جو ان افراد کے لیے بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں جو پیچیدہ شینجن عمل سے گزرنے کے بجائے دیگر ممالک کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔

