حکومت سے نالاں نوجوانوں کے شکوے دور کرکے انہیں گلے سے لگائیں گے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب كرتے هوئے كها كه بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ماضی کی حقیقت جاننا ضروری ہے۔صوبے سے متعلق دیگر علاقوں میں پایا جانے والا تصور حقیقت کے منافی ہے۔نواب خیر بخش مری علیحدگی کے حامی جبکہ میر غوث بخش بزنجو جمہوری جدوجہد کے قائل تھے۔حکومت سے نالاں نوجوانوں کے شکوے دور کرکے انہیں گلے سے لگائیں گے۔ریاست توڑنے والوں اور معصوموں کے قاتلوں سے آئین سے باہر بات ممکن نہیں۔قوم پرستی ہو یا مذہب، دہشت گردی دہشت گردی ہے۔غیر متوازن ترقی یا بیروزگاری شورش کی اصل وجہ نہیںریاست سے لڑنے والے بلوچ شناخت کی بنیاد پر اپنی علیحدہ ریاست کا خواب دیکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مزيد كها كه یہ اینٹیلیجنس ڈرون وار پاکستان کے خلاف ہے۔یہ صرف ریاست نہیں، ہر پاکستانی کی جنگ ہے ۔ماضی میں قلات میں محدود کارروائی کو پورے بلوچستان کا آپریشن قرار دینا درست نہیں ۔تاریخی شعور کے بغیر درست تجزیہ ممکن نہیں ۔بلوچستان میں امن کے لیے صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے دیا گیا ہے ۔ریسپانس میکنزم کو مؤثر بنایا گیا ہے ۔دہشت گرد ایک انچ زمین پر بھی دیرپا قبضہ نہیں کر سکتے ۔دہشت گردوں کا مقصد خوف پھیلانا ہے ۔بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔سیکیورٹی فورسز گرے زونز میں آپریٹ کر رہی ہیں، دوست دشمن کی پہچان مشکل ہے ۔مسنگ پرسنز سے متعلق جامع قانون سازی کی جا چکی ہے ۔گورننس اور سروس ڈلیوری نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں ۔صحت و تعلیم میں 99.99 فیصد بھرتیاں میرٹ پر ہوئیں ۔طلبہ کو قومی و عالمی اسکالرشپس فراہم کر رہے ہیں ۔کرپشن کی روک تھام کے لیے سی ایم آئی ٹی اور اینٹی کرپشن کو فعال بنایا گیا ۔مرد و خاتون کے بہیمانہ قتل کی شفاف تحقیقات جاری ہیں ۔ورثاء میں سے کوئی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے نہیں آیا ، مقدمہ کی مدعی ریاست ہے ۔ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں، انصاف کے لیے کیس کی بھرپور قانونی پیروی کریں گے ۔
