بلوچستان میں زرعی ترقی کا نیا باب — لونگ ڈیم منصوبے پر کام تیز کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے **لونگ ڈیم منصوبے** پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان **میر سرفراز بگٹی** کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ **لونگ ڈیم منصوبہ** صوبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی تکمیل سے **54 ہزار ایکڑ اراضی** سیراب ہوگی اور **4.8 میگا واٹ** بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ منصوبے پر **دو ارب پندرہ کروڑ روپے** لاگت آئے گی جبکہ اس پر **ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB)** کے تعاون سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں **پانی کے مؤثر استعمال اور ذخیرے کے لیے جدید حکمتِ عملی** اپنائی جا رہی ہے تاکہ زرعی شعبے کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ **لونگ ڈیم جیسے منصوبے** نہ صرف کسانوں کی خوشحالی بلکہ صوبے کی **معاشی خودکفالت** کی علامت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کا فوکس **قابلِ استعمال پانی میں اضافہ** اور **زراعت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے** پر ہے، تاکہ صوبے کے کسانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آبی وسائل کے منصوبے صوبے کے **ماحولیاتی توازن** اور **دیہی معیشت کے استحکام** میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
