دنیا تیزی سے توحید کے تصور کی جانب بڑھ رہی ہے ، مولانا محمد خان شیرانی

جمعیت علما اسلام پاکستان کے اجلاس میں تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھنے اور ہر ضلع میں رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) رہبرِ جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے توحید کے تصور کی جانب بڑھ رہی ہے، اور نہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہ ہی نسلی یا قومی بنیاد پر اسے تقسیم یا تفریق کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک
“عالمی گاں” بن چکی ہے، اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عالمی نظام اور حکمرانی بھی ایک ہی ہو گی۔ اسلامی روایت میں بھی خروجِ دجال اور نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تناظر میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی ہے کہ دنیا کا مستقبل ایک واحد عالمی نظام اور عالمی حاکمیت کی شکل میں ہوگا۔
یہ بات انہوں نے جمعیت علما اسلام پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوری کے دو روزہ اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت کا موجودہ تنظیمی ڈھانچہ اضلاع سے مرکز تک برقرار رکھا جائے گا اور کسی رکن کے انتقال، استعفی یا علیحدگی کی صورت میں صرف اسی کمی کی تکمیل کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں بارہ رکنی رابطہ کمیٹی اپنے علاقے میں جماعتی سرگرمیوں کی نگران ہوگی اور صوبائی سطح پر نمائندگی کرے گی۔ ہر صوبے میں بھی بارہ رکنی صوبائی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ ملک کے تمام اضلاع کی رابطہ کمیٹیوں کے ارکان پر مشتمل مرکزی مجلسِ عمومی جماعت کا بڑا مشاورتی فورم ہوگی۔ اجلاس میں جماعت کے مستقل جھنڈے کی بھی منظوری دی گئی۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی، مذہبی یا سماجی جماعت کسی معاملے میں جمعیت سے معاونت طلب کرے تو جس سطح پر رابطہ کیا گیا ہو، وہی نظم باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد دائمی اور اصولی بنیادوں پر قائم ہے، جو انسانیت کے فروغ، ظلم سے پاک معاشرے کی تشکیل، جبر کی روک تھام اور جنگوں سے اجتناب کے اصولوں پر مبنی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اجلاسوں اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے تمام احباب اپنے سفر، قیام اور طعام کے اخراجات خود برداشت کریں گے تاکہ ایمان کے تقاضے کے مطابق اپنی جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عہد نبھایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert