اپوزیشن اتحاد کا سندھ کی جانب رخ — بڑے جلسے کا اعلان ، محمود اچکزئی سمیت مرکزی قیادت کا خطاب متوقع

کراچی(قدرت روزنامہ) تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے تحت اپوزیشن اتحاد نے سندھ میں عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے 14 نومبر کو حیدرآباد میں بڑے جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ کراچی میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان سندھ کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، مجلسِ وحدت المسلمین کے مولانا صادق جعفری، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سرباز عبدالرب درانی، سیکرٹری مالیات اکرم ترین، ڈاکٹر محمود، اور جے یو آئی (شیرانی) کے حافظ حماد مدنی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی بحران، بدانتظامی اور آئینی انحراف کا شکار ہے، آئین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جبکہ ظلم، لاقانونیت اور نااہلی کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے۔ اعلامیے میں فیصلہ کیا گیا کہ آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی۔
رہنماؤں نے بتایا کہ اس مہم کا پہلا جلسہ 14 نومبر کو حیدرآباد میں ہوگا، جس میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی مرکزی قیادت، بشمول محمود خان اچکزئی، مولانا راجہ ناصر عباس، اور دیگر اہم رہنما خطاب کریں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عوامی جدوجہد ہی ملک میں آئینی و جمہوری نظام کی بحالی کی ضمانت ہے۔
