بلوچستان میں دو سال سے مستحقین زکوٰۃ سے محروم، چار ارب روپے فنڈز حکومتی غفلت کی نذر
زکوٰۃ کونسل اور کمیٹیوں کی مدت جون 2023 میں ختم، نئی حکومت نے تشکیل کا فیصلہ مؤخر کر دیا؛ محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا عندیہ — صوبے میں غربت کی شرح 70 فیصد سے زائد

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان حکومت کے پاس زکوٰۃ کی مد میں چار ارب روپے سے زائد رقم موجود ہونے کے باوجود صوبے بھر کے مستحقین گزشتہ دو سال سے زکوٰۃ کی تقسیم سے محروم ہیں۔ محکمہ زکوٰۃ کے حکام کے مطابق بلوچستان زکوٰۃ کونسل اور ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں کی مدت جون 2023 میں ختم ہوگئی تھی۔ اگست 2023 میں قائم ہونے والی نگران حکومت نے نئی کونسل اور کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ منتخب حکومت پر چھوڑ دیا، جس کے بعد معاملہ تعطل کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت نے پہلے زکوٰۃ ایکٹ میں ترمیم کی اور بعد ازاں محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا، جس کے باعث پچھلے دو برسوں کے دوران تقریباً چار ارب روپے کے فنڈز مستحقین تک نہیں پہنچ سکے۔
محکمہ زکوٰۃ کے حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں 2018 سے زکوٰۃ کی تقسیم کا عمل غیر مستقل رہا ہے، گزشتہ سات سالوں میں صرف دو بار زکوٰۃ مستحقین میں تقسیم کی جا سکی۔ دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں غربت کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے، ایسے میں مستحق افراد کی امداد میں تاخیر شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر زکوٰۃ کونسل اور کمیٹیوں کی بحالی یقینی بنا کر فنڈز کی شفاف تقسیم کا نظام بحال کرنا چاہیے تاکہ صوبے کے غریب اور نادار افراد اپنے حق سے محروم نہ رہیں۔
