بلوچستان : ایس ایچ او بھاگ ناڑی کے قاتلوں سمیت 6 دہشت گرد کچھی میں ہلاک، پنجگور سے دہشتگرد گرفتار

سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں لیویز اہلکار شہید، اہلکار زخمی قلعہ عبداللہ میں کھلونا بم دھماکہ، طالب علم جاں بحق؛ کیچ، اوستہ محمد اور چاغی میں 4 افراد قتل


کوئٹہ و اندرون بلوچستان (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، وہیں جوابی حملوں اور پرتشدد واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ضلع کچھی میں، سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اداروں کی نشاندہی پر ایک بڑے آپریشن میں کالعدم تنظیم کے چھ اہم کارندوں کو ہلاک کر دیا ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں بشیر کرد، امان گجکی، صدام دشتی، نیاز لانگو، ہدایت مری اور عادل کرد شامل ہیں ۔ یہ دہشت گرد مستونگ اور بھاگ ناڑی میں پولیس اور لیویز تھانوں، نیشنل بینک اور ایس ایچ او بھاگ شہید لطف علی کھوسو کے قتل سمیت دیگر حملوں میں ملوث تھے ۔ ادھر پنجگور کے علاقے عیسیٰ میں ایف سی نے ایک دہشت گرد قاسم ولد جما خان (ساکن تاسپ) کو زندہ گرفتار کرلیا ۔ ملزم نے آپریشن کے دوران اپنی بھانجی نازیہ کو انسانی ڈھال بنانے کی کوشش کی، تاہم لڑکی کے انکار پر دہشت گردوں نے اسے نقصان پہنچایا ۔ قاسم نے اعتراف کیا کہ وہ ‘فتنہ الخوارج’ کے ٹی ٹی پی ونگ سے وابستہ ہے اور متعدد حملوں میں ملوث رہا ہے ۔ دوسری جانب، دہشت گردوں نے کوہلو-بارکھان شاہراہ پر ایک کمپنی کے کریشن پلانٹ پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک لیویز اہلکار شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے ۔ ڈیرہ مراد جمالی میں بھی نیشنل ہائی وے پولیس آفس پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا، جس سے دفتر کا مین گیٹ تباہ ہوگیا اور قریب موجود ایک شہری محمد رمضان زخمی ہوگیا ۔ اسی دوران، بھاگ ناڑی پولیس تھانے پر حملے میں زخمی ہونے والا کانسٹیبل محمد عظیم کھوسہ، جو شہید ایس ایچ او لطف علی کھوسہ کے بھتیجے تھے، کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
صوبے بھر میں عام شہریوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ قلعہ عبداللہ کے علاقے آرمبی مسے زئی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک مدرسے کا طالب علم قدرت اللہ، ایم پی تھری نما بم کو گھر لے آیا ۔ بم پھٹنے سے طالب علم موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کی والدہ اور بھائی شدید زخمی ہوگئے ۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں، اوستہ محمد میں ہائی اسکول پل کے قریب نامعلوم افراد نے پرانی دشمنی کی بناء پر فائرنگ کر کے ظفراللہ ولد محمد گل مگسی کو قتل کر دیا ۔ ضلع کیچ میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات پیش آئے؛ تربت میں کیچ ندی سے عبدالخالق ولد امیر بخش کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی، جبکہ بلیدہ کے علاقے میناز میں موٹر سائیکل سواروں نے علی ولد سعید کو قتل کر دیا ۔ اسی طرح پاک ایران سرحدی شہر تفتان (ضلع چاغی) میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ذوہیب نامی نوجوان کو ہلاک کر دیا ۔ جھل مگسی کے صدر مقام گنداواہ کے قریب بھی فائرنگ سے دو افراد، عبدالغفار رند اور عطا محمد رند، زخمی ہوئے ۔ ان پرتشدد واقعات کے علاوہ پنجگور میں فتح علی بازار کے قریب تربت سے آنے والی ایک تیز رفتار کوچ نے جمعہ کی نماز کے لیے جانے والے بزرگ شہری داد محمد کو کچل دیا، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے ۔ دریں اثناء، اوستہ محمد پولیس نے ایک علیحدہ کارروائی کرتے ہوئے فراڈ کے مقدمے میں طویل عرصے سے مفرور ملزم نعمان شاہد، جس کا تعلق رحیم یار خان پنجاب سے ہے، کو گرفتار کر لیا

WhatsApp
Get Alert