کراچی میں دل دہلا دینے والا انکشاف: اسپتال کے اخراجات ادا کرنے کے لیے نومولود بچہ فروخت
ڈاکٹر اور اسپتال کی ملازمہ نے نومولود لڑکے کو مبینہ طور پر پنجاب میں فروخت کیا، دونوں مفرور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی کارروائی، بچہ بازیاب کر کے والدین کے حوالے، نجی اسپتال سیل

کراچی( ڈیلی قدرت ) شہر قائد کے علاقے میمن گوٹھ میں ایک نجی اسپتال میں اسپتال کے اخراجات ادا کرنے کے لیے نومولود بچے کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جسے ایک خاتون نے خرید کر مبینہ طور پر پنجاب میں کسی کو پیسوں کے عوض دے دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق، جامشورو کے علاقے نوری آباد کے رہائشی سارنگ نے میمن گوٹھ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا کہ ان کی اہلیہ شمع، جو چند ماہ قبل ناراض ہو کر والدین کے گھر چلی گئی تھیں، 5 اکتوبر کو اپنی والدہ کے ساتھ معائنے کے لیے کلینک گئیں۔ وہاں ڈاکٹر زہرا نے زچگی کے لیے آپریشن تجویز کیا اور رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ رقم نہ ہونے پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر مشورہ دیا کہ وہ ایک ایسی خاتون کو جانتی ہیں جو بچے کی خواہش مند ہے اور وہ نہ صرف بچے کو پالے گی بلکہ آپریشن کے تمام اخراجات بھی ادا کر دے گی۔
خاتون کے آپریشن کے بعد لڑکے کی پیدائش ہوئی جسے ڈاکٹر نے شمع بلوچ نامی خاتون کے حوالے کر دیا، جس نے اخراجات ادا کیے اور بچہ لے کر چلی گئی۔ والد سارنگ کو جب لڑکے کی پیدائش کا علم ہوا اور وہ اسپتال پہنچے تو صورتحال سامنے آئی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ شمع نامی خاتون نے ان کا بچہ کسی اور کو فروخت کر دیا ہے، لہذا قانونی کارروائی کی جائے۔
پولیس نے مقدمے کی تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (AVCC) کے حوالے کی۔ ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق، AVCC نے کارروائی کرتے ہوئے پنجاب سے بچے کو بازیاب کروا کر اس کے والدین کے حوالے کردیا، جبکہ ملوث نجی اسپتال کو سیل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، شمع بلوچ اسپتال کی ملازمہ ہے اور اُس نے ڈاکٹر زہرا کے ساتھ مل کر یہ کام انجام دیا۔ ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ بچے کو شمع بلوچ اور ڈاکٹر زہرا نے مل کر پنجاب میں فروخت کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر زہرا اور شمع بلوچ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور دونوں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
