بیڈ گورننس کے باعث وزیراعلی سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا،سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی

پیپلزپارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری لیاقت لہڑی نے بھی وزیراعلی کی تبدیلی کی تصدیق کر دی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)کوئٹہ(یو این اے )مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے بڑا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بیڈ گورننس کے باعث سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری نے بھی تبدیلی کی تصدیق کر دی دوستین ڈومکی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے نئے وزیراعلی کے نام پر مشاورت شروع کر دی ہے اور اِن ہاوس تبدیلی ہو گی،نیا وزیراعلی پیپلزپارٹی کا ہی ہو گا وزیر اعلی بلوچستان کا کوئی کارکردگی نہیں ہے انہوں نے سارا فنڈ اپنے علاقے میں لگایا ہے اور پی ایس ڈی پی کو غلط استعمال کیا گیا ہے اراکین کے بجاہیں غیر منتخب لو گوں نوازہ جارہا ہے انہوں صرف اپنی جیبیں بری ہے صرف پی ڈی ایم کو 40ارب ریلیز ہوئے ہیںنہ اس کا کوئی آڈٹ ہے کوئی ڈیزاسٹر بلوچستان میں نہیں آیا ہے ان سب کا احتساب ہونا چاہیے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری لیاقت لہڑی نے وزیراعلی بلوچستان کو تبدیل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ کوئی نیا چہرہ سامنے لائیں، ایسا وزیراعلی آئے جو بلو چستان کے مسائل حل کرے، اکثریت وزیراعلی کی تبدیلی چاہتی ہے ۔لیاقت لہڑی کا کہناتھا کہ پیپلزپارٹی کی بھی کوشش ہو گی نیا چہرہ اور مثبت چہرہ آئے، ایسا وزیراعلی جو بلوچستان کے مسائل سے واقف بھی ہو اور حل کی کوشش کرے، ہم تمام دوست بیٹھ کر مشاورت کررہے ہیں کہ ایسا سی ایم لائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان کی اکثریت سی ایم کو ہٹانا چاہتی ہے، چاہتے ہیں پارٹی سے کوئی اور وزیراعلی آئے اور صوبے کے بدترین صورتحال کو کنٹرول کرے، نئے وزیراعلی کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی، پارٹی جسے وزیراعلی نامزدکریگی اسے تسلیم کریں گے۔ان کا کہناتھا کہ ہمیں بلوچستان اور اس کے عوام کو دیکھنا ہے، وزیراعلی نے قیادت کو کچھ اور باتیں بتائی تھیں، لیکن ہم زمینی حقائق کو دیکھتے ہیں جو یکسر مختلف ہیں، ہم نے زمینی حقائق قیادت کے سامنے رکھے ہیں، قیادت جو فیصلہ کرے گی ہم لبیک کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert