حکومت کا خاتمہ، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور خیبرپشتونخوا میں گورنر راج پر مزاحمت : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے جلسے میں 33 اہم قراردادیں منظور

کوئٹہ ( ڈیلی قدرت ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام برصغیر پاک وہند اور پشتونخوا وطن کے آزادی کے قافلے کے عظیم سالار خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کی 52ویں برسی کے جلسہ عام منعقدہ ایوب سٹیڈیم فٹبال گرائونڈ کوئٹہ کی قراردادیں پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا نے پیش کی اور جلسہ گاہ نے باقاعدہ ہاتھ اُٹھاکر ان کی منظوری دیں۔
منظور کی جانے والی قراردادیں درج ذیل ہیں:
1۔ کوئٹہ کا یہ عظیم الشان جلسہ عام خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 52ویں برسی پر ان کی قومی، سیاسی ،جمہوری اور علمی اور صحافتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے سیاسی و قومی اہداف کی تکمیل کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
2۔ جلسہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی بنیادی وجہ غیر آئینی و غیر جمہوری حکمرانی کو قرار دیتے ہوئے ملک میں متفقہ آئین کی بحالی و بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قومی اکائیوں کی برابری پر مبنی حقیقی فیڈریشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
3۔یہ عظیم الشان جلسہ عام خیبر پشتونخوا میں ممکنہ گورنر راج بارے دیئے گئے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہے ۔ خیبر پشتونخوا کی موجودہ حکومت پشتونخوا کے عوام کے واضح مینڈیٹ سے منتخب ہوئی ہے اسے غیر آئینی طریقوں سے عدم استحکام کا شکار بنانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور خبردار کرتا ہے کہ اس کے سنگین نتائج پیداہوں گے۔
4۔یہ عظیم الشان جلسہ عام خیبر پشتونخواکو این ایف سی میں اُس کا حصہ اور ختم شدہ اضلاع کا حصہ نہ دیئے جانے ، مالیاتی ومعاشی دبائو پیدا کرنے اور این ایف سی کو چھیرے جانے کے عزائم کی مذمت کرتا ہے۔ اور مطالبہ کرتا ہے کہ صوبہ خیبر پشتونخوا کی تمام NFCکی Pendingمالیاتی ادائیگیاں فی الفور ادا کی جائے ۔ یہ جلسہ عام خبردار کرتا ہے کہ NFCکوچھیرنے کی ہر کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
5۔یہ عظیم الشان جلسہ عام امن جرگہ کے مثبت کردار کو سراہتا ہے جس میں صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کی مشترکہ قرار داد منظور کی یہ جل عام وفاقی حکومت واداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ امن جرگہ کی قراردادوں پر من وعن عملدرآمد کیا جائے۔
6۔یہ عظیم الشان جلسہ عام واضح کرتا ہے کہ یہ خطہ کسی نئی جنگ وتنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ صوبہ خیبر پشتونخوا ، بلوچستان میں امن ، خوشحالی ، ترقی ، کاروبار کے لیے مقامی عوام کی مشاورت سے امن کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ترقی وکاروبار کے راستے بحال ہو۔
7۔ضلع کوئٹہ کا یہ عظیم الشان جلسہ عام اس بات کا پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ آئین پاکستان اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے ۔ عدلیہ کو آزاد کیا جائے۔
8۔یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور اُن پر قائم تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں ان مقدمات میں انہیں جیل میں رکھنا انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے اور عمران خان کو ان کی قانونی ٹیم اور خاندان سے ملاقات کا حق بحال کیا جائے۔ PTIبلوچستان کی قیادت ، کارکنان کے خلاف درج بے بنیاد درجنوں مقدمات کو فی الفور واپس لیا جائے۔
9۔ضلع کوئٹہ کا یہ عظیم الشان جلسہ عام عوام کی حق حکمرانی بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
10۔یہ جلسہ عام اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار دادلائے جانے کی مذمت کرتا ہے اور اسے جمہوری آزادی کے خلاف سمجھتا ہے۔
11۔ جلسہ پی ٹی آئی کے 26 نومبر 2024 اسلام آباد احتجاج پر ریاستی تشدد، شہادتوں اور زخمیوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
12۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام 8 فروری 2024 کے انتخابات میں ریاستی مداخلت سے نتائج کی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں قائم ہونیوالی حکومت کو کھلی طور پر مسترد کرتا ہے اور ساتھ ہی حکومت کے خاتمے اور فوری شفاف، غیر جانبدار انتخابات کا مطالبہ کرتا ہے۔
13۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، پیکا ایکٹ اور صوبائی خودمختاری سلب کرنے کے غیر آئینی ، غیر قانونی اقدامات کو کھلی طور پر مسترد کرتاہے ان ترامیم کی واپسی اور غیر منتخب حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
14۔یہ عظیم الشان جلسہ عام تحریک انصاف کے بانی عمران خان سمیت تمام سیاسی و جمہوری اسیران، بلوچ خواتین اور دیگر قیدیوں کی فی الفور رہائی اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتا ہے۔
15۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام زرعی یونیورسٹی کوئٹہ کی عمارت نیوٹیک کو دینے یا نجکاری کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے یونیورسٹی کو اس کے اصل قانونی اسٹیٹس پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
16۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام پشتون علاقوں زیارت ، ہرنائی ، شیرانی ، موسیٰ خیل وغیرہ میں قومی جنگلات کے لاکھوں ایکڑ اراضی کے غیر قانونی انتقالات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتا ہے۔
17۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام ڈیورنڈ لائن کے چمن،کدنی ، بادینی ، قمر الدین کاریز، غلام جان بندر، انگور اڈہ ، خرلاچی، باجوڑ ، تور خم سمیت تمام روایتی تجارتی راستوں کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے پرانی تجارت و آمدورفت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
18۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام جلسہ مائنز و منرلز میں وفاقی مداخلت اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کو غیر آئینی قرار دے کر اسے فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
19۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام مہنگائی، بے روزگاری،کرپشن، بدامنی اور معاشی زوال کی ذمہ داری غلط داخلی و خارجی پالیسیوں کا نتیجہ گردانتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
20۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام اقوام متحدہ سے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی مشترکہ کانفرنس بلا کر عدم مداخلت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے۔
21۔ یہ عظیم الشان جلسہ انگریزوں کی تقسیم کے باعث بٹے ہوئے پشتون خطے کو ایک متحد خودمختار قومی اکائی ”پشتونستان” کی صورت میں قائم کرنے یا پشتون وحدت کے قیام تک جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کیلئے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
22۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام بلوچستان میں پشتون–بلوچ سیال اقوام کی ہر شعبہ زندگی میںبرابری سیاسی و انتظامی شراکت داری کا مطالبہ کرتا ہے۔
23۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام کوئٹہ ، ہرنائی، لورالائی ، پشین ، قلعہ عبداللہ، دکی سمیت پشتون علاقوں کی جدی پشتی زمینوں پر غیر قانونی الاٹمنٹ اور سرکاری قبضہ گیری کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
24۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی و حیدرآباد میں 370 ریسٹورنٹس و ہوٹلز کی بندش اور ملک بھر کے تجارتی مراکز پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں جنرل ڈکلیئریشن (GD)کو قومی سطح پر تسلیم کرنے اور ٹیکسیشن کے دوہرے معیار کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
25۔یہ عظیم الشان جلسہ عام جلسہ جنوبی پشتونخوا میں نادرا کی امتیازی سلوک وقوائد وضبط کو شناختی کارڈ سے محرومی کی سازش قرار دے کر ان کا فوری خاتمہ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
26۔یہ عظیم الشان جلسہ عام بلوچستان کے سیلابی پانی کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر سٹوریج ڈیمز، چیک ڈیمز اور جدید ریچارجنگ سسٹمز کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔
27۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام ہرنائی–سبی ریلوے لائن کی بندش، ہرنائی–سنجاوی روڈ کی طویل بندش اور ترقیاتی کام روکے جانے کی مذمت کرتے ہوئے فوری بحالی اور کام تیز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
28۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے طلبہ یونین کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
29۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام بلوچستان کی معدنیات اورخصوصاً پشتون علاقوں میں کوئلہ کانوں پر ایف سی کے غیر قانونی قبضے اور غیر قانونی ٹیکسز وصول کرنے کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے اور مائنز ومنرل کی حفاظت لیویز اور پولیس فورس کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
30۔یہ عظیم الشان جلسہ عام مہنگائی، بیروزگاری، ٹیکسوں کے بوجھ اور معیشت کی تباہی کو غیر سیاسی مداخلتوں اور سیکیورٹی اسٹیٹ کے بوجھ کا نتیجہ قراردے کر معاشی اختیارات پارلیمنٹ کے دوونوں ایوانوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
31۔یہ عظیم الشان جلسہ عام لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے حکومتی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ لیویز فورس کو بحال اور جدید اسلحہ وتربیت سے لیس کیا جائے۔
32۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام پورے ملک خصوصاً اس صوبے میں انٹرنیٹ بند کرنے اور انتہائی سست نظام کی مذمت کرتے ہوئے تیز رفتار رسائی کے ساتھ انٹرنیٹ ونیٹ ورک کی فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے ۔
33۔ یہ عظیم الشان جلسہ عام ملک میں قوموں اور ان کے قومی زبانوں پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتاہے اور تمام قومی زبانوں کو قومی اکائیوں میںزندگی کے ہر شعبہ میں رائج کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
